آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان تیسرے روز بھی مذاکرات جاری

اسلام آباد : آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان تیسرے روز بھی مذاکرات جاری ہے  ، وزارت خزانہ آئی ایم ایف کونجکاری پلان پربریفنگ دے گی اور توانائی شعبےمیں نقصانات کم کرنے سےمتعلق بھی آگاہ کیاجائےگا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جاری ہے ، آئی ایم ایف مشن کی سربراہی ارنستو ریگو کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کی جانب سے سیکریٹری وزارت خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کر رہے ہیں۔

وزارت خزانہ میں ہونے والے مذاکرات میں وزارت خزانہ، وزارت تجارت، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کے حکام شریک ہیں، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات 10مئی تک جاری رہیں گے۔

وزارت خزانہ مالی خسارہ کم کرنےکےاقدامات سےآگاہ کررہی ہے ، وزارت خزانہ آئی ایم ایف کونجکاری پلان پربریفنگ دے گی اور توانائی شعبےمیں نقصانات کم کرنے سےمتعلق بھی آگاہ کیاجائےگا۔

ایف بی آر کی جانب سے ریونیو ٹارگٹ حاصل نہ کرنے پر آئی ایم ایف نے اظہار تشویش کیا ، رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ ایف بی آرہدف سے345 ارب کم حاصل کرپایا، پیٹرولیم مصنوعات پرجی ایس ٹی ریٹ کم کرنے سے ایف بی آر کا شارٹ فال بڑھا۔

آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے محصولات کاہدف حاصل کرنےکےلئےٹیکس نیٹ بڑھاناہوگا۔

مزید پڑھیں : پاکستان آئی ایم ایف مذاکرات، پاکستان کی ٹیکس ہدف میں 600 ارب روپے اضافے کی پیش کش

گزشتہ روز مذاکرات کے دوسرے دن پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کو 6سو ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکسز لگانے، بجلی اور گیس کے نرخ بڑھانے سمیت دیگر اہم یقین دہانیاں کرائی گئیں۔

اس سے قبل مذاکرات کے آغاز میں پاکستان کی جانب سے آئندہ مالی سال کے ٹیکس ہدف میں 600 ارب روپے اضافے کا عندیہ دیا گیا تھا۔

خیال رہے حکومت آئی ایم ایف سے 7 سے 8 ارب ڈالر قرض کی درخواست کر سکتی ہے، جب کہ ممکنہ آئی ایم ایف پروگرام کی مدت 3 سال ہوگی۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات 10مئی تک جاری رہیں گے۔

Comments

comments