‘آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ تو ہونا ہی تھا’

البرائٹ سٹون برج گروپ کے ڈائریکٹر اور ماہر اقتصاديات عزیر یونس نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے پاکستان کے فیصلے پر اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ یہ تو ہونا ہی تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب یا چین سے اگر تھوڑی بہت مالی امداد مل بھی جاتی تو بھی پاکستان کا آئی ایم ایف کے پاس جانا ناگزیر تھا۔

آج پاکستان کی وزارت خزانہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے فوری طور پر ایف ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بیان کے مطابق یہ فیصلہ ملکی معیشت کی اس سنگین صورت حال کے پیش نظر کیا گیا ہے جو موجودہ حکومت کو ورثے میں ملی ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق اس وقت خساره 6.6 فی صد ہے جب کہ توانائی کے شعبے میں ایک ٹریلن روپے سے زیادہ کے نقصان کا سامنا ہے اور جاری اکاؤنٹ میں ہر ماہ دو ارب ڈالر کا خساره ہو رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی صورت حال کے مقابلے کے لیے حکومت اور سٹیٹ بینک نے اقدامات کیے ہیں، جن میں غیر ضروری درآ مدات پر ڈیوٹی کی شرح میں اضافہ بھی شامل ہے تاکہ اس کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

عزیر یونس کہتے ہیں، پاکستان کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا کیونکہ عمران خان حکومتی قرضوں کے معاملے میں سابقہ حکومتوں پر مسلسل کڑی نکتہ چینی کرتے رہے ہیں اور یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ ان کی حکومت قرضے نہیں لے گی اور ہاتھ نہیں پھیلائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہوتی ہیں۔ ان شرائط میں بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں اور شرح سود میں اضافہ اور ڈالر کی شرح تبادلہ کو آزاد مارکیٹ کے مطابق اپنی قدر کے تعین کی آزادی بھی شامل ہے۔ ان اقدامات کی مقصد حکومت کے مالی وسائل میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔

عزیر یونس کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے نتیجے میں ڈالر مہنگا ہو سکتا ہے۔ اس وقت اوپن مارکیٹ میں ڈالر 125 سے 127 روپے کے لگ بھگ ہے۔ جب کہ آئندہ دو تین مہینوں میں اس کی قیمت 140 سے 150 روپے کے درمیان پہنچ سکتی ہے۔

ان کی رائے کے مطابق ملک میں مہنگائی کا طوفان آ سکتا ہے کیونکہ ملکی توانائی کی ضروريات کا انحصار زیادہ تر بیرون ملک سے ہے۔ ڈالر مہنگا ہونے سے تیل، مائع گیس اور کوئلہ مہنگا ہو جائے گا۔ پاکستان کے تھرمل پاور پلانٹس درآمدی کوئلے پر چلتے ہیں کیونکہ ملکی کوئلہ معیاری نہیں ہے۔

توانائی کی مہنگائی کارخانوں اور کھیتوں کھلیانوں سے لے کر عام آدمی تک، ہر ایک کو منفی طور پر متاثر کرتی ہے۔ توانائی کی قیمت بڑھنے سے مصنوعات کی لاگت بڑھ جائے گی جس سے بین الاقوامی منڈی میں مشکل مقابلے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عزیر یونس کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی اقتصادی مشکلات پر قابو پانے کے لیے اپے اقتصادی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔

چیمبر آف کامرس کراچی کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ عارضی طور پر تو یہ درست اقدام ہے۔ کیونکہ ان حالات سے نکلنے کا آخری چارہ کار یہی تھا لیکن اگر حکومت نے ٹھوس منصوبہ بندی نہ کی تو چند برس کے بعد اسے دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم اے کے پاس جانے سے متعلق عمران انتظامیہ کے فیصلے کے سیاسی اثرات بھی ہیں۔ قرضوں پر کڑی نکتہ چینی کرنے والے اور قرضوں سے پاک ملک بنانے کے انتخابی نعروں پر ووٹ لینے والے اب اپنے ووٹرز کا کس طرح سامنا کریں گے۔

پاکستان کی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ 1990 کی دہائی سے یہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا 10 وان پروگرام ہے۔ جب کہ معاشی ماہرین کہتے ہیں پاکستان 12 سے زیادہ مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جا چکا ہے۔ اور اسے ہر چند سال بعد عالمی مالیاتی ادارے کے پاس پھر سے جانے کی ضرورت اس لیے پڑ جاتی ہے کیونکہ عالمی ادارہ معیشت کی بہتری کے لیے جو تجاویز پیش کرتا ہے، حکومت اس پر سنجیدگی سے عمل نہیں کرتی۔