اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کی حد پر اسٹیٹ بینک کی وضاحت

کراچی: پاکستان بھر میں یہ افواہ زیرگردش تھی کہ بینک میں کھاتے رکھنے والے صارفین اکتیس جنوری کے بعد اے ٹی ایم مشین سے ایک ہزار روپے سے زائد کی رقم نہیں نکلوا سکیں گے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں بسنے والے صارفین نے یہ شکایت کی تھی کہ انہیں موبائل فون پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اکتیس جنوری کے بعد اے ٹی ایم مشین سے ایک ہزار روپے سے زائد رقم نہیں نکالی جاسکے گی۔

روایت کے مطابق ان افواہوں کو بہت سے صارفین نے سچ سمجھا اور انہوں نے پیغامات کی تصاویر کو بغیر تصدیق کے ہی آگے بڑھانا شروع کردیا تھا۔

یہ سلسلہ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ صارفین بہت زیادہ پریشان ہوگئے تھے کیونکہ بینک کے اوقات کار ختم ہونے کے بعد وہ 25 سے 50 ہزار روپے تک کی رقم اے ٹی ایم سے بیک وقت نکال سکتے ہیں۔

اس ضمن میں بینک صارفین نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اسٹیٹ بینک سے مطالبہ بھی کیا تھا کہ وہ اس پابندی کو ختم کردے۔

اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سوشل میڈیا پر زیر گردش پیغامات کی تردید کی گئی ہے، جس میں‌ واضح کیا گیا ہے کہ مرکزی بینک سے یہ ہدایت منسوب کی گئی تھی کہ اے ٹی ایم سے کیش نکلوانے کی حد ایک ہزار روپے تک محدود کردی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایس بی پی اے ٹی ایم مشین سے رقم نکلوانے کی کوئی مقرر نہیں کرتا، اس حد کا فیصلہ نجی بینک خود کرتے ہیں‘۔

اس وضاحت کے بعد انٹرنیٹ پر زیر گردش افواہیں اپنی موت آپ دم توڑ گئیں۔


نوٹ: اگر آپ کو ایسا پیغام موصول ہوتو  اپنے بینک کی ہیلپ لائن پر کال کر کے مصدقہ معلومات حاصل کریں تاکہ کسی بھی پریشانی سے محفوظ رہ سکیں۔

Comments