حکومت کی سب کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، کراچی چیمبر

کراچی : تاجر رہنما سراج قاسم تیلی اور جنید ماکڈا نے کہا ہے کہ حکومت کی سب کو ٹیکس میں لانے کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں کیونکہ ٹیکس گزاروں کی تعداد میں اضافے کے نتیجے میں ٹیکسوں کا بوجھ تقسیم ہوگا۔ 

بزنس مین گروپ ( بی ایم جی ) کے چیئرمین اور سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی اور کراچی چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جنید اسماعیل ماکڈا نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کراچی میں تاجر برادری کے ساتھ ہونے والے گزشتہ اجلاس میں یقین دہانیوں کا خیرمقدم کیا ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ کراچی چیمبر حکومت کی سب کو ٹیکس میں لانے کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے کیونکہ ٹیکس گزاروں کی تعداد میں اضافے کے نتیجے میں ٹیکسوں کا بوجھ تقسیم ہوگا اور بلآخر موجودہ ٹیکس گزاروں کو ریلیف ملے گا جو فی الوقت بے پناہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کا بوجھ برداشت کررہے ہیں۔

ایک مشترکہ بیان میں چیئرمین بی ایم جی اور صدر کے سی سی آئی نے واضح طور پر کہا کہ کراچی چیمبر کی ممبر شپ کی بنیاد صرف ٹیکس دہندگان پر مشتمل ہوتی ہے جو سب ہی این ٹی این نمبرز رکھتے ہیں۔

کے سی سی آئی کا یہ پختہ یقین ہے کہ ہر ایک کو ٹیکس دینا چاہیے اور یہ ہمارے لیے باعث فخر ہے کہ ہم اس شہر کی نمائندگی کرتے ہیں جو قومی خزانے میں ٹیکسوں، ڈیوٹیز اور دیگر لیویز کی مد میں 70فیصد سے زائد ریونیو جمع کرواتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب پر ٹیکس لگنا چاہیے اور کسی من پسند کو ٹیکس کی چھوٹ نہیں دینی چاہیے کیونکہ یہ ہر ایک شہری کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کی ترقی وخوشحالی کے لیے ایمانداری سے قابل اطلاق تمام ٹیکس ادا کرے۔

انہوں نے مزید زور دیا کہ ایف بی آر شہروں کے لحاظ سے ٹیکسوں کی تفصیلات اور متعلقہ اعداد وشمار کی تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر تشہیر کرے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جاسکیں اوردوسرے شہر جو کم ٹیکس دیتے ہیں وہاں لازمی طور پر ٹیکس وصولی کا کام تیز کیا جاسکے۔

چیئرمین بی ایم جی سراج قاسم تیلی نے اپنے تبصرے میں کہا کہ حکومت نے ٹیکس وصولی میں اضافے کے لیے مختلف قوانین وضع کئے ہیں اور ترامیم متعارف کی ہیں لیکن ہمیں یہ ڈر ہے کہ زیادہ تر قوانین اور ترامیم سے ایف بی آر حکام کے اختیارات بڑھیں گے حتیٰ کہ نچلی سطح کا عملہ بھی ذاتی مفادات اور تسکین کے لیے ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے کے لیے انہیں استعمال کرے گا۔

ہم حکومت کی جانب سے ٹیکس وصولی کو بہتر بنانے میں سنجیدگی کو سراہتے ہیں لیکن حال ہی میں متعارف کروائے گئے قوانین اور ترامیم کا جائزہ لینے اور آزادانہ جانچ پڑتال کی ضرورت ہے۔ ان قوانین پر اس نظریے کے ساتھ عمل درآمد کیاجانا چاہیے کہ اس سے کرپشن کی راہ ہموارنہ ہو بلکہ صرف ریونیو میں اضافہ ہو۔

Comments

comments