سی پیک ریلوے لائن اپ گریڈیشن پر اجیکٹ کی لاگت میں کمی

پاکستان نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس نے سی پیک منصوبے کے تحت 1900 کلومیٹر ریلوے لائن کو اپ گریڈ کرنے کے اخراجات پر نظر ثانی کے بعد اس میں کمی کر دی ہے۔ اس پراجیکٹ کے لیے رقوم چین نے فراہم کرنی ہیں۔

ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا ہے کہ مرکزی ریلوے لائن ایم ایل ون کو ، جو کراچی کو پشاور سے ملاتی ہے ، اپ گریڈ کرنے کا تخمینہ 8 ارب 20 کروڑ ڈالر تھا ، اسے نظر ثانی کے بعد دو ارب ڈالر کم کر دیا گیا ہے۔

شیخ رشید کا کہا تھا کہ ابتدا میں ایم ایل ون کا تخمینہ 8 ارب 20 کروڑ ڈالر تھا ، اب نئے تخمینے کے مطابق اس پر 6 ارب 20 کروڑ ڈالر لاگت آئے گی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم نے جو 2 ارب ڈالر کم کیے ہیں، وہ اصل میں کک بیکس اور کمشن کی رقم تھی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان اخراجات میں مزید کمی کی کوشش جاری رکھی جائے گی جس کا فائدہ بالآخر اس ملک کے غریب عوام کو ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن ہم اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں گے اور ہمیں اپنے دوست چین پر فخر ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کرپشن کے خلاف مہم کا اعلان کرتے ہوئے سی پیک سے منسلک پراجیکٹس پر سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ وہ ان کی لاگت کم کرنے کے لیے چین سے دوبارہ بات چیت کریں گے۔

سی پیک منصوبے کے تحت توقع ہے کہ پاکستان میں اندازاً 60 ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری ہوگی اور یہ منصوبہ 15 سال میں مکمل ہو گا۔