عالمی طاقتیں اور ایران تیل کی تجارت کے لیے ‘بارٹر سسٹم’ پر متفق

امریکہ کے سوا ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کرنے والے پانچ بڑے ملکوں نے ایران کے ساتھ ‘بارٹر سسٹم’ کے تحت تجارت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

پیر کو نیویارک میں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور ایران کے اعلیٰ حکام کے مابین اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جوہری معاہدے کے تحت ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے جائیں گے اور امریکی پابندیوں کے پیشِ نظر رقوم کی ادائیگی کا نیا طریقۂ کار وضع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال مئی میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ ایران پر وہ اقتصادی پابندیاں بحال کی جائیں گی جو جوہری معاہدے کے تحت اٹھائی گئی تھیں۔

امریکہ جو پابندیاں بحال کر رہا ہے ان میں ایران سے تیل کی خریداری پر پابندی بھی شامل ہے جس سے جوہری معاہدے میں فریق عالمی طاقتوں سمیت کئی درجن ممالک متاثر ہوں گے جو ایران سے تیل درآمد کرتے ہیں۔

ایرانی تیل کی خریداری پر پابندی کا نفاذ رواں سال نومبر سے ہوگا جس سے قبل کئی ممالک متبادل انتظامات کرنے میں مصروف ہیں جب کہ کئی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ متبادل انتظامات کے تحت امریکی پابندیوں کے باوجود ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھیں گے۔

پیر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیاہے کہ پانچوں عالمی طاقتوں اور ایران نے تیل سمیت ایرانی برآمدات کے عوض ادائیگیوں کے متبادل نظام سے متعلق پیش کی جانے والی تجاویز کا خیرمقدم کیا ہے۔

یورپی سفارت کاروں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ متبادل نظام کے طور پر اشیا کے لین دین (بارٹر سسٹم) پر غور کیا جار ہا ہے جس کے تحت ایران کو تیل کی قیمت یورپی اشیا کی صورت میں ادا کی جاسکے گی۔

ماضی میں اس نوعیت کا بارٹر سسٹم سرد جنگ کے زمانے میں سوویت یونین کامیابی سے استعمال کرچکا ہے۔

یورپی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس متبادل نظام کا مقصد نومبر سے موثر ہونے والی امریکی پابندیوں سے بچنا ہے جس کےتحت امریکہ ایسے کسی بھی بین الاقوامی بینک کو اپنے مالیاتی نظام سے کاٹ سکتا ہے جو ایران کو تیل کی ادائیگیوں کے لیے اپنی خدمات پیش کرے گا۔

پیر کو اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موغیرینی نے بتایا کہ ایران کے ساتھ ‘بارٹر سسٹم’ متعارف کرانے کا حتمی فیصلہ کیا جاچکا ہے اور اب صرف اس کی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔

لیکن بعض سفارت کاروں نے اس نظام کی افادیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کئی سفارت کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ اس کی اجازت نہیں دے گا اور وہ بارٹر سسٹم کے تحت اشیا کے تبادلے کو روکنے کے لیے پابندیوں سے متعلق اپنے قوانین میں تبدیلی بھی لاسکتا ہے۔