عالمی معیشت کی شرحِ نمو کم رہنے کی پیش گوئی

عالمی بینک نے کہا ہے کہ 2019ء میں عالمی معیشت کی شرحِ نمو اتنی زیادہ رہنے کی توقع نہیں جتنا پہلے اندازہ لگایا گیا تھا۔

بینک کے مطابق اس نے عالمی معیشت کے مستقبل سے متعلق اپنے ابتدائی اندازوں پر نظرِ ثانی مختلف ملکوں کے درمیان جاری تجارتی تنازعات، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں آنے والی سست رفتاری اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں تناؤ کی صورتِ حال کے پیشِ نظر کی ہے۔

عالمی بینک نے ‘ڈارکننگ اسکائیز’ (سیاہ ہوتا آسمان) کے عنوان سے جاری اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس نےچھ ماہ قبل پیش گوئی کی تھی کہ عالمی معیشت 2019ء کے دوران تین فی صد کی شرح سے ترقی کرے گی۔

لیکن ادارے کے مطابق برسرِ زمین صورتِ حال کے پیشِ نظر اب اس نے 2019ء میں عالمی معیشت کی متوقع شرحِ نمو گھٹا کر 9ء2 کردی ہے۔

اگر عالمی بینک کا اندازہ درست ثابت ہوا تو یہ مسلسل دوسرا سال ہوگا جب بین الاقوامی معیشت کی شرحِ نمو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رہے گی۔

اس سے قبل 2017ء میں بین الاقوامی معیشت میں 1ء3 فی صد کی شرح سے بڑھوتری آئی تھی لیکن 2018ء میں یہ شرح کم ہو کر 3 فی صد رہ گئی تھی۔

عالمی بینک میں معاشی پیش گوئیوں کے شعبے کے نگران معیشت دان ایہان کوس کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی معیشت کی ترقی کی رفتار سست پڑ رہی ہے اور اس کے مستقبل کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔

ان کے بقول 2017ء میں معیشت کے تمام شعبے ترقی کر رہے تھے لیکن 2018ء کے دوران ان شعبوں میں زوال کے اثرات نمایاں ہونے لگے تھے۔

اپنے نظر ثانی شدہ تخمینے میں عالمی بینک نے امریکی معیشت کی شرحِ نمو کو 5ء2 فی صد کی سطح پر برقرار رکھا ہے۔ لیکن یہ شرح 2018ء کے مقابلے میں کم ہے جب امریکی معیشت نے 9ء2 فی صد کی شرح سے ترقی کی تھی۔

بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ یورو کرنسی استعمال کرنے والے 19 ملکوں کی شرحِ نمو رواں سال کے دوران 6ء1 فی صد رہے گی ۔ اس سے قبل بینک نے یورو زون کی شرحِ نمو 9ء1 فی صد رہنے کی امید ظاہر کی تھی۔

بینک کے مطابق دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین کی شرحِ نمو 2019ء کے دوران 2ء6 فی صد رہنے کی توقع ہے جو 2018ء میں 5ء6 فی صد رہی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی شرحِ سوداور ڈالر کی قدر میں اضافہ بھی ترقی پذیر معیشتوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے جب کہ ٹیرف (محصولات) سے متعلق جاری تنازعات نے عالمی تجارت کو نقصان پہنچایا ہے جس کا اثر مینوفیکچرنگ کے شعبے پر پڑا ہے۔

ماہرینِ معیشت گزشتہ کچھ عرصے سے ایک اور بین الاقوامی کساد بازاری کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں جو ان کے خیال میں آئندہ چند برسوں کے دوران عالمی معیشت کو نشانہ بنا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی اور دنیا کی بڑی معیشتوں میں بڑھتے ہوئے ‘پروٹیکشن ازم’ کی بدولت کساد بازاری کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔