لنڈے کے کپڑوں پر بھی 10 فیصد ٹیکس عائد

کراچی: نئے مالی سال کا آغاز ہوتے ہی بیرون ملک سے درآمد کیے گئے استعمال شدہ کپڑوں پر بھی 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہوگئی۔ استعمال شدہ کپڑے بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق نئے مالی سال کے آغاز سے ہی ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کا اطلاق بھی ہوگیا۔ ڈالر مہنگا ہونے سے پہلے ہی درآمدی استعمال شدہ کپڑوں کی قیمت میں اضافہ ہوچکا تھا جبکہ ڈیوٹی لگنے کے بعد یہ غریبوں کی پہنچ سے بھی باہر ہوجائیں گے۔

پاکستان سیکنڈ ہینڈ کلوتھنگ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق ود ہولڈنگ ٹیکس کو ایک فیصد سے بڑھا کر 6 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ٹیکسوں میں اضافے اور مہنگے ڈالر کے باعث اب کاروبار کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ نئے کپڑے تو خرید نہیں سکتے تھے اب پرانے کپڑے بھی مہنگے ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ مالی سال کے 9 ماہ میں 16 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے استعمال شدہ کپڑے درآمد کیے گئے تھے۔ مہنگائی کی موجودہ صورتحال سے درآمد کنندگان غیر یقینی صورتحال سے دو چار ہیں۔

Comments

comments