منی لانڈرنگ اور ٹیررزم فنانسنگ کے خلاف پاکستان کے اقدامات

پاکستان عالمی سطح پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے گرے لسٹ میں شامل کیے جانے کے بعد مشکل صورت حال کا شکار ہے اور بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کا خدشہ ہےجس کی تدارک کے لیے مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اسی ضمن میں سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی تجاویز کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ اور کاوئنٹر ٹیرارزم فنانسنگ ریگولیشنز 2018 جاری کردیے ہیں۔

اس سلسلہ میں ایس ای سی پی کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ ریگولیشنز فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی سفارشات کے عین مطابق جن پر پاکستان کو ایشیا پیسفک گروپ کے رکن کی حیثیت سے عمل کرنا لازمی ہے

ترجمان کے مطابق ان ریگولیشنز کے نافذ العمل ہونے کے بعد ایس ای سی پی کی جانب سے سیکیورٹیز بروکرز، بیمہ کمپنیوں، غیر بینک، مالیاتی کمپنیوں اور مضاربہ کے لیے اس موضوع پر پہلے سے جاری شدہ نوٹی فیکیشن اور سرکلرز کالعدم ہو گئے ہیں۔ مجوزہ ریگولیشنز میں تمام مالیاتی کمپنیوں اور اداروں کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے حوالے سے تمام احکامات اور شرائط کو ان ضوابط میں شامل کر دیا گیا ہے۔

تطہیر زر اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام کے ضوابط کا باقاعدہ نوٹی فیکیشن اور ان ضوابط کا مسوده ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر بھی جاری کردیا گیا تھا بعدازاں مشاورت کے دوران موصول ہونے والی تجاویز کی روشنی میں جاری کردہ ضوابط کو حتمی شکل دی گئی۔

ترجمان کے مطابق صارفین کے لیے مطلوبہ احتياط کا سہل طریقہ کار بھی فراہم کیا گیا ہے تاکہ چھوٹے سرمایہ کار قدرے آسانی کے ساتھ مالیاتی اداروں کی خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں گے جبکہ مالیاتی ادارے اپنی توجہ ہائی رسک صارفین پر دے سکیں گے جبکہ کم رسک والے صارفین میں پنشن فنڈ کی اسکیموں، محدود مالی خدمات کی مصنوعات اور بیمہ کے وہ صارفین شامل ہیں جن کی سالانہ سرمایہ کاری کی حد ایک لاکھ روپے یا ڈھائی لاکھ روپے تک ہے۔

ایس ای سی پی کی طرف سے ہائی رسک صارفین میں سیاسی افراد، قانونی افراد اور قانونی طور پر پیچیدہ ملکیت والے کاروباری ڈھانچے اور غیر منافع بخش اداروں کو شامل کیا گیا ہے۔ جرائم پیشہ افراد، کمپنیوں، شراکت دار، ٹرسٹ اور دیگر پیچیدہ ملکیت کے طریقہ کار کے ذریعے اپنی شناخت چھپانے کے سدباب کو یقینی بنانے کے لیے مالیاتی اداروں کو سخت ہدایت کی گئی ہے کہ مالیاتی خدمات کی فراہمی سے پہلے ایسے تمام قانونی انتظامی ڈھانچوں کی حقیقی ملکیت کی نشان دہی کریں۔

سیکیورٹی اینڈ ایکس چینج کمشن آف پاکستان کی جانب سے پاکستان میں قائم مالیاتی اداروں کے بیرون ملک یا غیر ملکی اداروں کے ساتھ تعلق اور معلومات کی فراہمی، تطہیر زر اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے حوالے سے اداروں کے اندرونی کنٹرول، سرمایہ کاروں کی جانچ پڑتال اور اداروں کی غیر ملکی شاخوں یا غیر ملکی اداروں کی پاکستان میں شاخوں کے حوالے سے بھی شرائط کو ضوابط کا حصہ بنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال فروری میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے دہشت گردوں کے معاون ممالک سے متعلق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ‘گرے لسٹ’ میں پاکستان کا نام شامل کرنے کی تصدیق کر دی تھی۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔

اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔