مِنی بجٹ پیش، گزشتہ حکومت کے کئی اقدامات واپس

پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے قومی اسمبلی میں مِنی بجٹ پیش کردیا ہے جس میں وزیرِ اعظم، وزرا اور گورنروں کو حاصل ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

گزشتہ دورِ حکومت میں سرکاری ملازمین کی ٹیکس سلیب 12 لاکھ روپے تک کردی گئی تھی جسے کم کرکے دوبارہ چار لاکھ کردیا گیا ہے۔ نان فائلر کے لیے نئی گاڑی اور جائیداد خریدنے پر پابندی بھی ختم کر دی گئی ہے۔

سپلیمنٹری فنانس بِل منگل کو وزیرِ خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا۔

اسد عمر نے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے کو بچانا ہے، بجٹ میں تبدیلی نہ کی گئی تو مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اور خسارہ 2700 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

وزیرِ خزانہ نے وزیرِ اعظم، وزرا اور گورنروں کو ٹیکس سے حاصل استثنیٰ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب ان اعلیٰ حکام سے بھی ٹیکس لیا جائے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ برآمدات میں اضافہ ہو۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر تیزی سے گر رہے ہیں۔ بیرونی قرضے 60 ارب سے بڑھ کر 95 ارب تک پہنچ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گیس کے شعبے میں 100 ارب سے زائد خسارے کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا موجودہ صورتِ حال میں بجٹ خسارہ 7.2 فی صد تک پہنچ سکتا ہے۔ اگر ہم اسی طرح چلتے رہے تو خسارہ 2900 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی پینشن میں 10 فی صد اضافہ کیا جارہا ہے۔ مہنگے موبائل فونز پر ڈیوٹی عائد کی جارہی ہے۔ بجٹ میں سگریٹ پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ 1800 سی سی سے زیادہ کی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح 10 سے بڑھا کر 20 فی صد کردی گئی ہے۔ یوریا کی قیمتوں میں استحکام کے لیے سات ارب روپے کی سبسڈی منظور کی گئی ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ ایکسپورٹ انڈسٹری کے لیے 82 مصنوعات پر ڈیوٹی ختم کر رہے ہیں۔ پنجاب میں ٹیکسٹائل بند ہونے سے پانچ لاکھ افراد بے روزگار ہوئے۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ریگولٹری ڈیوٹی کی مد میں ایکسپورٹ انڈسٹری کو پانچ ارب روپے کا ریلیف دے رہے ہیں۔ پیٹرولیم لیوی ٹیکس کی مد میں 300 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے اور گھروں کی تعمیر کے لیے ساڑھے چار ارب روپے ریلیز کیے جائیں گے۔

قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے فنانس بل میں چار لاکھ روپے سالانہ آمدن والے افراد کو ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے، چار سے آٹھ لاکھ آمدن پر ایک ہزار روپے ٹیکس، آٹھ سے 12 لاکھ پر دو ہزار روپے، 12 لاکھ سے 24 لاکھ سالانہ آمدن پر پانچ فی صد ٹیکس، 24 سے 30 لاکھ روپے آمدن پر 60 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

تیس لاکھ سے زائد آمدن پر 15 فی صد ٹیکس، 40 سے 50 لاکھ آمدن پر 25 فی صد اور 50 لاکھ سے زائد آمدن پر 29 فی صد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بعد ازاں اسد عمر نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چوروں کے خلاف کارروائی کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت نے نان فائلرز پر بوجھ ڈالا ہے۔ تمام اقدامات کے نتائج آنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ 18 سے 21 ارب ڈالرز ہے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیکس 25 فی صد کردیا ہے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ اسمبلی ارکان کی مراعات پر ٹیکس استثنیٰ ختم کیا جا رہا ہے۔ سی پیک کے منصوبوں میں ایک روپے کمی نہیں آنے دیں گے۔ تیس سال میں ہم نے کوئی کامیابی حاصل نہیں کی۔ مالی سال 2018ء میں 661 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تھا۔ رواں مالی سال ترقیاتی بجٹ 725 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا دیامر بھاشا ڈیم کو چھ سال میں تعمیر کیا جائے گا۔

پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد پیش کیے جانے والے اس منی بجٹ کے بعد بعض ماہرین کے مطابق مہنگائی کی ایک نئی لہر آسکتی ہے جس سے تحریکِ انصاف کو سیاسی طور پر نقصان بھی ہوسکتا ہے۔