چین نے محصولات کے جواب میں امریکی مائع گیس پر ٹیکس لگا دیا

امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ میں اب چین نے اپنی برآمدی مصنوعات پر نئے ٹیکسوں کے جواب میں امریکہ کی مائع گیس اور کروڈ آئل کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

یہ اقدام ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ توانائی کی برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چین نے پہلی بار جمعے کے روز ایل این جی، یعنی مائع گیس کو نئے محصولات کی فہرست میں شامل کیا ہے اور اسی روز امریکی کروڈ آئل کی سب سے بڑی خریدار کمپنی سنوپیک نے تجارتی تنازع کے باعث امریکہ سے کروڈ آئل کی درآمد معطل کر دی ہے۔

جمعے ہی کے دن چین نے اعلان کیا کہ وہ امریکی مصنوعات پر 60 ارب ڈالر مالیت کے نئے جوابی ٹیکس لگا رہا ہے۔ چین نے خبردار کیا ہے کہ وہ مزید اقدامات بھی کر سکتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ تجارتی جنگ میں گھٹنے نہیں ٹیکے گا۔

چین کے تازہ اقدام سے وائٹ ہاؤس کی ان خواہشات پر ضرب پڑے گی جن کا تعلق توانائی کی برآمدات کی توسیع سے ہے۔

امریکہ نامیاتی ایندھن مثلاً پٹرول اور ڈیزل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے اور وہ 2019 میں مائع گیس کا بھی سب سے بڑا ایکسپورٹر بننا چاہتا ہے۔ امریکہ نے 2017 میں تین ارب 30 کروڑ مالیت کی مائع گیس برآمد کی تھی۔جب کہ چین دنیا بھر میں کروڈ آئل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔

چین پچھلے دو مہینوں سے امریکہ سے مائع گیس کی درآمد بتدریج کم کر رہا ۔ جب کہ وہ دنیا بھر میں مائع گیس کا دوسرا سب سے بڑا خریدار ہے۔ چین یہ اقدامات ایک ایسے وقت پر کر رہا ہے جب امریکہ مائع گیس کی برآمدات بڑھانے کے لیے نئے پلانٹ لگا رہا ہے۔