چین کے ساتھ تعلقات میں مثبت اشارے ملے ہیں: ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں مثبت اشارے ملے ہیں اور لگتا ہے کہ دونوں ملک اپنے اختلافات دور کرنے پر آمادہ ہیں۔

جمعے کو بیونس آئرز میں جاپان کے وزیرِ اعظم کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اور چین اپنے اختلافات دور کرنے پر متفق ہوگئے تو یہ ایک اچھا قدم ہوگا۔

ان کے بقول، “میرے خیال میں وہ [چینی] ایسا کرنا چاہتے ہیں اور ہم بھی ایسا چاہیں گے۔ دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔”

صدر ٹرمپ دنیا کے 20 بڑے صنعتی ملکوں کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ارجنٹائن کے دارالحکومت میں ہیں جہاں ہفتے کی شام وہ چین کے صدر ژی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔

‘جی-20’ کا دو روزہ سربراہی اجلاس جمعے کو شروع ہوا تھا جس میں شریک عالمی رہنما بین الاقوامی تجارت، معاشی پالیسیوں، ماحولیات، تیل کی قیمتوں اور تارکینِ وطن کی ہجرت سے متعلق معاملات سمیت دیگر دو طرفہ امور پر بات چیت کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ رواں سال اب تک چین سے امریکہ درآمد کی جانے والی 250 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر 10 فی صد اضافی ٹیکس عائد کرچکے ہیں جس کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی جنگ کا سا ماحول ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین کی غیر منصفانہ تجارتی اور صنعتی پالیسیوں کی وجہ سے امریکی معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے اور جب تک وہ اپنی یہ پالیسیاں تبدیل نہیں کرےگا، اس کی مصنوعات پر اضافی ٹیکس نافذ رہے گا۔

صدر ٹرمپ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر چین نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو اس کی باقی ماندہ برآمدات پر بھی اضافی ٹیکس لگائے جائیں گےجن کی مالیت 267 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

صدر ٹرمپ کے اقدامات کے جواب میں اب تک چین بھی 110 ارب ڈالر مالیت کی امریکی برآمدات پر اضافہ ٹیکس نافذ کرچکا ہے۔

اضافی ٹیکسوں کے نفاذ کے باعث دونوں ملکوں کے صارفین اور صنعتوں کو نقصان ہو رہا ہے اور امکان ہے کہ جاری تجارتی جنگ کا معاملہ ہی دونوں صدور کے درمیان ہفتے کو ہونے والی ملاقات میں سرِ فہرست رہے گا۔

بیونس آئرز میں موجود چینی وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ سربراہی ملاقات سے قبل فریقین کی جانب سے بعض معاملات پر اتفاقِ رائے کے اشارے ملے ہیں لیکن کئی معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

‘جی-20’ کا قیام 2008ء میں آنے والے بین الاقوامی اقتصادی بحران کے بعد عمل میں آیا تھا جو دنیا کے 20 بڑے صنعتی ملکوں پر مشتمل ہے۔

دنیا کی آبادی کی دو تہائی اکثریت ‘جی-20’ میں شامل ملکوں میں رہتی ہے جن کے حکمران ہر سال اپنے اجلاسوں میں بین الاقوامی معاشی صورتِ حال اور تجارتی پالیسیوں پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔