آبادی کا 10 فی صد غذائی قلت کا شکار، پاکستان کیا کر سکتا ہے؟

اٹھارہ سالہ آمنہ کو جب کراچی کے ایک نجی اسپتال میں گردے کے مرض کے علاج کیے لیے داخل کرایا گیا تو پہلی بار داخلے کے وقت ان کا وزن 130 پونڈز تھا۔

گزشتہ چھ ماہ میں علاج کے دوران انہیں تین بار اسپتال میں داخل کیا گیا۔ گردے کے مرض سے تو افاقہ ہوا مگر چھ ماہ کے دوران آمنہ کے وزن میں 15 سے 17 کلو کمی دیکھنے میں آئی جو ڈاکٹرز کے مطابق اس عمر کی صحت مند لڑکیوں کے وزن سے کافی کم ہے۔

آمنہ کے وزن میں کمی ان کی غذائیت یا خوراک کی کمی کی وجہ سے تھی۔

اب آمنہ کے والدین ایک بیماری کے بعد دوسری بیماری کا علاج کرا رہے ہیں، جس کے لیے انہیں مہنگے فوڈ سپلیمنٹس بھی خریدنے پڑتے ہیں۔

سال 2019 میں سامنے آنے والے پاکستان غذائی سروے کے مطابق ملک میں ایک تہائی سے زیادہ بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں، 29 فی صد کے قریب وزن کی کمی جب کہ 17 فی صد سے زائد کمزور ہیں۔ ان بچوں میں بڑی تعداد صوبۂ سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھتی ہے۔

سروے رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نوجوان خواتین میں سے 50 فی صد خواتین اینیمیا یعنی خون کی کمی کا شکار ہیں۔

مذکورہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 37 فی صد گھرانوں کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ غربت اور وسائل کی کمی کو قرار دیا گیا ہے۔

تاہم آزاد ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں اس سے کہیں زیادہ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

پاکستان کے ادارۂ شماریات کی رواں برس جنوری میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کرونا وائرس کے دوران آبادی کے 10 فی صد افراد کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

دوسری جانب برطانوی ادارے ‘دی اکنامسٹ’ کے انٹیلی جنس یونٹ کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غذائیت کی کمی مؤثر تشخیص اور طبی غذائیت کے انتظام میں ناکامی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔

پاکستان میں مریضوں کو غذائی کمی کا سامنا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غذائی دیکھ بھال پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ اکثر مریضوں کے اسپتال میں داخلے کے وقت یہ معلوم نہیں کیا جاتا کہ آیا مریض کو غذائیت کی کمی کا مسئلہ تو نہیں۔ ایسی صورت میں دو تہائی مریض اسپتال میں موجودگی کے دوران ہی غذائیت کی کمی کا مزید شکار ہوجاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مریضوں میں غذائی کمی بڑھ جائے تو انہیں زیادہ عرصے تک طبی نگہداشت کی ضرورت پڑ سکتی ہے، مرض سے نکلنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے اور وہ زیادہ خطرناک پیچیدگیوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔

غذائی کمی کی وجہ کیا ہے؟

ماہرین کے بقول اس کی اہم وجہ ملک کے اسپتالوں میں تربیت یافتہ ماہرِ غذائیت (نیوٹریشنسٹس) اور ڈائٹیشینز کی کمی ہے۔ جس کے باعث ہر ڈاکٹر کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ہر مریض کے داخلے کے وقت اس کی غذائی کمی کو جانچیں کیوں کہ اسپتالوں میں اس سے متعلقہ اسٹاف کی شدید کمی ہے۔

اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں سوائے چند شہروں کے بعض بڑے اسپتالوں میں اس شعبے سے وابستہ افراد کو کم ہی مواقع مل پاتے ہیں۔ کیوں کہ زیادہ تر اسپتالوں میں اس کی کوئی آسامی رکھی ہی نہیں جاتی جب کہ نیوٹریشنسٹس اور ڈائٹیشنسٹ کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ دونوں کے اپنے اپنے کام ہوتے ہیں۔

رجسٹرڈ غذائی ماہرین کا کردار مختلف قسم کے مریضوں کو مختلف ترتیب میں دیکھ بھال فراہم کرتا ہے۔

وہ مریضوں کی غذائی ضروریات کی تشخیص کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور انہیں اور اہل خانہ کو مناسب غذا سے متعلق آگہی فراہم کرتے ہیں۔

اس شعبے میں تربیت یافتہ عملے کی کمی کیوں ہے؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پاکستان کے مختلف میڈیکل کالجز میں اس شعبے کی تعلیم دی جارہی ہے لیکن اس سے متعلق پروگرامز کی اب بھی کمی ہے۔

مختلف تعلیمی اداروں میں اس سے متعلق پروگرام تو موجود ہیں مگر ڈائٹیٹکس اور نیوٹریشن کی اعلیٰ تعلیم کے لیے اساتذہ کا فقدان ہے۔

پاکستان نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹیٹک سوسائٹی کی صدر فائزہ خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ڈینٹل، میڈیکل، فارمیسی اور نرسنگ کونسل کی طرز پر ملک میں نیوٹریشن کونسلز کا کوئی وجود نہیں۔

ان کے بقول نیوٹریشن کی شناخت نہ ہونے کے باعث اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ کے پاس کوئی پروفیشنل سرٹیفکیٹس موجود نہیں ہوتے۔ اگرچہ سال 2011 سے ان کی سوسائٹی ایسے افراد سے سرٹیفیکیشن امتحانات لے رہی ہے جس میں 300 سے زائد امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ لیکن ملک میں سرکاری سطح پر اسے تسلیم کیے جانے کا طریقہ کار بنانا ضروری ہے۔

فائزہ خان نے کہا کہ حکومت نے نیوٹریشنسٹس کو الائیڈ ہیلتھ سائنسز کونسل میں شامل کر لیا تھا لیکن اس کا عملی طور پر کوئی وجود نہیں۔ اس وجہ سے مذکورہ شعبے سے وابستہ ماہرین نے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

ان کے بقول لاہور کی یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس، پشاور یونیورسٹی، فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی میں نیوٹریشن میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی بھی کرایا جارہا ہے جب کہ کراچی میں اس شعبے میں ابھی صرف بی ایس لیول تک کے ہی کورسز کرائے جارہے ہیں کیوں کہ کئی اداروں کے پاس اس کے لیے متعلقہ فکیلٹی ہی نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مختلف جامعات کے پاس ہیومن نیوٹریشنسٹس اور ڈائٹیشنز موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے طلبہ کو اس شعبے میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع نہیں مل رہے ہیں۔

یہ مدنظر رہے کہ پاکستان کی 2018 سے 2025 کی نیوٹریشن اسٹریٹیجی میں ایسے کئی سپلیمینٹس شامل کیے گئے ہیں جن سے آبادی کے مختلف حصوں کو ان کی ضرورت کے تحت متوازن غذا کے لیے پروٹین سپلیمنٹس دیے جانے ہیں۔

ایک اور غذائی ماہر لیفٹیننٹ کمانڈر رابعہ انور کے مطابق مڈل کلاس آمدنی والے گھرانوں کے لیے ایسے نیوٹریشنل سپلیمنٹس لینا کافی مشکل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسپتالوں کے بھاری بھرکم بلز کے ساتھ مریضوں کو یہ سپلیمنٹس بھی خریدنے ہوتے ہیں۔ نتیجتاً وہ مریض جو انہیں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے وہ ڈاکٹرز کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہیں اور ان سپلیمنٹس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ جس پر ان کے دوبارہ اسپتال میں داخلے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

‘غذائیت پر توجہ ہماری ترجیحات میں شامل نہیں’

رابعہ انور کے مطابق عوام کی اکثریت ان نیوٹریشنل سپلیمنٹس کو اس لیے استعمال ہی نہیں کرتی کیوں کہ غذائیت ہماری ترجیحات میں کہیں نہیں۔ غذائیت کا تصور ہی عام آبادی کے لیے ایک دھندلا خواب ہے۔ اس کی اہمیت حتیٰ کہ اسپتالوں میں بھی اس کے کردار کو کم ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔

ان کے بقول صرف 10 سے 15 فی صد اسپتال ہی نیوٹریشن یعنی غذائیت پر توجہ دیتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر بھی حیرت ہوگی کہ ڈائیٹیشن کی جگہ یہ کام دوسرے شعبے کے افراد کر رہے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نیوٹریشن پالیسی پر عمل درآمد کی کیا حالت ہے۔

پاکستان کی نیوٹریشن پالیسی کے تحت ملک میں 2025 تک بچوں میں عمر کے حساب سے بچوں کے قد کے نہ بڑھنے میں 20 فی صد کمی لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جب کہ بچوں میں وزن کی کمی کو دور کرنے کے لیے ہر سال اعشاریہ پانچ فی صد کمی لائی جا رہی ہے۔

اسی طرح خواتین میں خون کی کمی کی شرح کو ہر سال چار فی صد کم کرنے کا منصوبہ ہے۔ مزید یہ کہ بچوں میں وٹامن اے، آئرن اور آئیوڈین کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بھی اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔

لیکن رپورٹ کے مطابق اس حکمت عملی پر عمل درآمد میں بڑی خامیاں موجود ہیں۔اور اس حکمتِ عملی میں مانیٹرنگ اور نتائج کو پرکھنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔ جس سے یہ اندازہ لگایا جائے کہ مطلوبہ نتائج مل پارہے ہیں یا نہیں۔

اسی طرح پاکستان مین صحت کے ادارے مرکزی اور صوبائی حکومت کے ماتحت ہیں۔ زیادہ تر اسپتال صوبائی حکومتوں کے دائرۂ کار میں آتے ہیں اور ان کی پالیسیز میں مرکز کو مداخلت کا اختیار کم ہے۔

تاہم اس سے متعلق قوانین بنانے کا اختیار صرف وفاقی حکومت کے پاس ہے جب کہ ڈائریکٹر قومی نیوٹریشن پروگرام ڈاکٹر بصیر خان اچکزئی کے خیال میں بھی اس میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔