ادرک میں‌ موجود “جینجرول” کیا کرتا ہے؟

ایک زمانہ تھا جب باورچی خانے میں عام مسالا جات، سبزیوں اور پکوان میں‌ استعمال ہونے والی بعض جڑی بوٹیوں سے ہم جسمانی تکالیف، عام شکایات کا علاج کیا کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل گیا، لیکن ان غذائی اجناس کی تاثیر برقرار ہے جس کا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

ہم بات کرنے جارہے ہیں ادرک کی جو ہر باورچی خانے میں موجود ہوتی ہے اور روزمرہ استعمال کی جڑی بوٹی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں ادرک کس طرح ہماری صحت کی ضامن اور اس کی مدد سے کیسے بیماریوں کا علاج ممکن ہے؟

ادرک مہک اور خوش ذائقہ ہونے کی وجہ سے اکثر مشروبات جیسا کہ چائے اور عام کھانوں میں ذائقے کے علاوہ خاص ڈشز میں سجاوٹ کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

ماہرینِ غذائیت کے مطابق ادرک کا ایک جزو ’جینجرول‘ ہے جو بیماریوں سے لڑنے کی خصوصیت رکھتا ہے۔ اس جڑی بوٹی کا باقاعدگی سے استعمال شوگر، دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے خلاف، سوجن، بدہضمی دور کرنے اور کئی موسمی بیماریوں سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ادرک ہاضم ہے، یہ دل کے عضلات کو قوی بناتی ہے اور جوڑوں کے درد میں نافع ہے۔ سردی، زکام اور کھانسی کا علاج بھی اسی ادرک میں چھپا ہے۔

زمانہ قدیم سے ہی ادرک کو طبیب اور حکیم بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں اور آج بھی قدرت کی عطا کردہ یہ نعمت اور چھوٹی سی جڑی بوٹی ہمارے لیے بہت کام کی ہے۔

0

20

Comments

comments