اسپین میں آئس رنک مردہ خانے میں تبدیل

یورپ میں کرونا وائرس کی وجہ سے روزانہ ایک ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہورہی ہیں اور کئی ملکوں میں حکام پریشان ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران اتنی بڑی تعداد میں لاشوں کی تدفین کیسے کی جائے؟

ایک اور مسئلہ یہ درپیش ہے کہ گورکن کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کو عام میتوں کی طرح سپرد خاک نہیں کرسکتے کیونکہ اس طرح ان کے بھی وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس کے لیے خصوصی لباس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہسپانوی حکام نے میڈرڈ کے 14 قبرستانوں میں اسی لیے تدفین روکی ہوئی ہے کہ ان کے گورکنوں کے پاس حفاظتی لباس نہیں۔

ان حالات کی وجہ سے اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں ایک آئس رنک کو عارضی طور پر مردہ خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ آئس رنک برف کے اس میدان کو کہتے ہیں جس پر آئس اسکیٹنگ کی جاتی ہے۔ یہ آئس رنک میڈرڈ کے شاپنگ مال پلاسیو ڈی ہیلو یا آئس پیلس میں قائم ہے جس میں 1800 اسکیٹرز کی گنجائش ہے۔ مقامی حکام نے بتایا کہ اسے لاشوں کو رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اسپین میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے جہاں منگل تک 40 ہزار کیسز کی تصدیق ہوچکی تھی۔ پیر کو ایک دن میں 539 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2700 ہوچکی ہے جن میں سے نصف ہلاکتیں میڈرڈ اور اس قرب و جوار میں ہوئی ہیں۔

اٹلی میں بھی مردہ خانوں میں لاشوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ جن لاشوں کو دفن کرنے کے بجائے برنر میں جلایا جائے گا، وہاں بھی کام زیادہ ہونے کی وجہ سے تاخیر ہورہی ہے۔ مردہ خانوں، قبرستانوں اور لاشیں جلانے کے مراکز کا تمام عملہ انتہائی حفاظتی تدابیر اختیار کررہا ہے۔

آخری رسومات انجام دینے والے پادری تابوت سے کئی فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہوکر دعائیں پڑھتے ہیں۔ آخری رسومات اور تدفین میں عام لوگوں کی شرکت کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔ اٹلی میں گورکنوں کے بجائے مشینوں سے قبریں کھودی جاتی ہیں اور تابوت اتارنے کے بعد اسی طرح انھیں بند کیا جاتا ہے۔

کرونا وائرس سے دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی میں ہوئی ہیں۔ وہاں اب تک 6 ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔ صرف پیر کو 600 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اٹلی اور اسپین میں عام افراد کے بجائے فوج کو لاشیں اسپتالوں سے مردہ خانے اور قبرستان منتقل کرنے کی ذمے داری دی گئی ہے۔