اومی کرون سے متعلق ماہرین کا حیرت انگیز دعویٰ

کورونا کے حوالے سے ہونیوالی نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اومیکرون سے شفایاب ہونے والوں کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوجاتا ہے

کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ دنیا بھر میں تیزی سے اپنے پنجے گاڑ رہا ہے اور اس کے پھیلاؤ کی رفتار گزشتہ سال تباہی ڈھانے والے ڈیلٹا کے مقابلے میں زیادہ بتائی جارہی ہے۔

تاہم پریشان نہ ہوں کیونکہ ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اومی کرون سے صحت یاب ہونے والوں کی قوت مدافعت بہتر ہوگی، ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے ویرینٹ پر قابو پانے کے بعد یہ قوت مدافعت لوگوں کے جسم میں طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔

نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق اومی کرون انفیکشن سے تیار کردہ کورونا وائرس اینٹی باڈیز 88 فیصد کیسز میں کم از کم 6 ماہ تک جسم میں موجود رہتی ہیں جو ان لوگوں کو کورونا سے تحفظ فراہم کرتی ہیں جب کہ 6 ماہ بعد ان اینٹی باڈیز کی شرح 74 فیصد تک گرجاتی ہے۔

متاثرہ افراد پر کی گئی تحقیق کے مطابق وائرس سے متاثرہ مریضوں کے جسم میں اینٹی باڈیز پائی گئی اور اس وجہ سے صحت یاب ہونے کے بعد ان کے جسم پر وائرس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔

اس حوالے سے یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے متعدی امراض کے ماہر پروفیسر پال ہنٹر کا کہنا ہے کہ اومی کرون ہو یا کوئی اور ویرینٹ سب آپ کی قوت مدافعت کو بہتر بناتے ہیں، پھر یہی قوت مدافعت اس ویرینٹ کے خلاف زیادہ موثر ہوجاتی ہے۔

ساؤتھمپٹن یونیورسٹی اسپتال کے سینٹر فار کلینیکل ریسرچ کے پروفیسر ساؤل فاسٹ کا موقف ہے کہ ہماری تحقیق کے مطابق تمام ویکسین قوت مدافعت بڑھانے میں کارگر ہوتی ہیں۔