ایک خاندان کے 4 افراد ہلاک، 2 کی حالت نازک

کرونا وائرس کو عالمگیر وبا قرار دیا جا چکا ہے اور دنیا بھر میں اس سے دس ہزار لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ اس خطرے کا ادراک نہیں کر پا رہے، خاص طور پر پاکستان میں ابھی تک بہت سے لوگ سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔

ایسے لوگوں کو امریکی ریاست نیو جرسی کے فسکو خاندان کے بارے میں بتانا چاہیے جو چند دن پہلے تک ہنستا کھیلتا خوشحال گھرانہ تھا، لیکن کرونا وائرس نے اس کی خوشیاں چھین لی ہیں۔

اس اطالوی امریکی خاندان کی سربراہ 73 سالہ گریس فسکو تھیں۔ وہ 11 بچوں کی ماں اور 27 پوتے پوتیوں نواسے نواسیوں کی دادی اور نانی تھیں۔ جب وہ اتوار کو عبادت کے لیے جاتیں تو گرجا گھر ان کے اہلخانہ ہی سے بھر جاتا تھا۔ کسی رات کے کھانے پر صرف گھر کے لوگ جمع ہوجاتے تو دعوت جیسا ماحول بن جاتا۔

پھر کرونا وائرس کا ظہور ہوا اور اس نے فسکو خاندان پر حملہ کردیا۔ گزشتہ بدھ کو گریس فسکو اس کا شکار ہو کر چل بسیں۔ آخری لمحات تک وہ نہیں جانتی تھیں کہ ان سے چند گھنٹے پہلے ان کا ایک بیٹا اور پانچ دن پہلے ایک بیٹی اسی وائرس کا شکار ہو کر انتقال کر چکی ہے۔

جمعرات کو ان کا ایک اور بیٹا ہلاک ہوگیا۔ اب بھی ان کے تین بچے اسپتال میں ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ پورا خاندان اب شدید غم کی کیفیت میں ہے۔

گریس فسکو کی سب سے بڑی بیٹی 55 سالہ ریٹا فسکو جیکسن سب سے پہلے بیمار ہوئی تھیں۔ گزشتہ جمعہ کو ان کا انتقال ہوا تو اہلخانہ کو معلوم ہوا کہ وہ کرونا وائرس میں مبتلا تھیں۔ ایک ایک کرکے دوسرے لوگ بھی بیمار پڑتے گئے۔ گریس فسکو کا حال خراب ہوا تو انھیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

خاندان کے مزید 20 افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور وہ قرنطینہ میں وقت گزار رہے ہیں۔ اس المناک صورتحال میں وہ سب جمع ہو کر دکھ نہیں بانٹ سکتے۔

ریاست نیوجرسی کی ہیلتھ کمشنر کا کہنا ہے کہ ریٹا فسکو جیکسن وائرس سے پہلے بظاہر کسی اور بیماری میں مبتلا نہیں تھیں۔ ان کے باقی بہن بھائی بھی صحت مند تھے۔ ان کے چاروں بچے بھی بیمار پڑے ہیں اور ان سب کا ایک ہی اسپتال میں علاج جاری تھا۔

فسکو خاندان گھوڑے پالنے کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ اس کے کچھ ارکان گھوڑوں کو تربیت دیتے ہیں اور کئی گھڑسوار ہیں۔ ان کے گھر پر 3 مارچ کو ایک تقریب ہوئی تھی۔ اس میں ایک مہمان ایسا آیا جس کا کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے ایک شخص سے رابطہ تھا۔ خیال ہے کہ اس مہمان نے وائرس منتقل کیا جو فسکو خاندان کے لیے موت کا پیغام ثابت ہوا۔