برازیل کے خاص قبائلی کرونا کا علاج کیسے کررہے ہیں؟

براسیلیا: برازیل کے جنگل میں رہنے والے ایمازونین قبائلی دیسی اور روایتی ٹوٹکوں کے ذریعے کروناوائرس کا علاج کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایمازون قبیلے کے لوگ جنگل سے خاص قسم کی جڑی بوٹیوں اور شہد کی مدد سے کرونا علامات کے خاتمے کی کوششوں میں جٹے ہوئے ہیں جو ان کی روایتی ٹوٹکوں میں شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق قبائلی ٹوٹکے کے تحت ’بارک‘ نامی درخت کے ریشوں اور شہد کی ملاوٹ سے دوا تیار اور استعمال کرتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ مذکورہ دوا عالمی وبا کے مریضوں کو شفا دیتی ہے۔

برازیل میں ایمازون جنگل میں رہنے والے مختلف قسم کے قبائل بھی کروناوائرس سے متاثر ہورہے ہیں، اب تک 20 ہزار کیسز سامنے آئے جبکہ 1 ہزار کے قریب افراد ہلاک بھی ہوئے۔

فیس ماسک، ہیڈسینی ٹائزر اور حفاظتی کٹس سے محروم جنگل کے قبائلی اپنی مدد آپ کے تحت وبا کے علاج دریافت کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں، مذکورہ افراد کشتی کی مدد سے دور دراز جنگی علاقوں سے جڑی بوٹیاں تلاش کرتے ہیں اور بارک شہد کی ملاوٹ سے ایسی دوا تیار کرتے ہوئے جو ان(ایمازونین) کے مطابق کرونا کا علاج ہے۔

خیال رہے کہ مذکورہ علاج غیر تصدیق شدہ اور پرانی کہاوتوں پر مشتمل ہے۔

0

20

Comments

comments