فوبیا: کیا خوف سے نجات پانا ممکن ہے؟

زندگی میں نشیب و فراز اور حالات کا اتار چڑھاؤ ہماری رفتار تو کم کرسکتے ہیں، لیکن ہم آگے بڑھتے رہتے ہیں اور بُرا وقت بھی گزر جاتا ہے۔

مشکل حالات اور کڑے وقت کا سامنا کرتے ہوئے ہم گھبراہٹ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انجانے خدشے، اندیشے ستاتے ہیں اور ہم پریشان رہنے لگتے ہیں۔

اسی طرح جب کوئی خطرہ سَر پر ہو یا افتاد ٹوٹ پڑنے کا ڈر ہو تو ہم اس کے “خوف” میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو حاوی ہوجائے تو زندگی تکلیف دہ ہوسکتی ہے۔

فوبیا، کسی مخصوص صورتِ حال یا چیز کے خوف کو کہتے ہیں جس میں کچھ خاص تدابیر اور طریقے اپنائے جائیں تو اسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے ہر قسم کی احتیاط، کچھ چیزوں سے پرہیز اور اجتناب کرنا بتدریج بہتری کی طرف لے جاتا ہے۔

کوشش کریں کہ انجانی اور ان دیکھی شے یا خطرے کے فوبیا کو کم سے کم وقت کے لیے سوچیں، خود کو مثبت سرگرمی کی طرف دھکیل دیں۔ اچھی اور معلوماتی کتب کا مطالعہ اور دیگر مفید مشاغل اپنائیں۔ تاہم ماہر اور مستند معالج اس حوالے سے بہتر راہ نمائی کرسکتا ہے۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق اکثر فوبیا کے شکار لوگوں پر عرصے بعد کُھلتا ہے کہ وہ جس چیز سے خوف زدہ تھے، وہ کوئی ایسا خطرہ نہیں تھا کہ اس سے مسلسل پریشان رہا جاتا، لیکن اس پر توجہ دینا اور ضرورت پڑنے پر باقاعدہ علاج یا عادات و رویے میں تبدیلی لاکر گھبراہٹ اور بے چینی کی شدت سے بچنا بہرحال ضروری تھا۔

بعض اوقات تشویش، پریشانی اور اس کے نتیجے میں گھبراہٹ کی بہت واضح اور معقول وجوہ بھی ہوتی ہیں، جنھیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، لیکن اس حوالے سے غیرمستند، غیرضروری اور سنی سنائی باتوں کو اہمیت دینے کے بجائے درست اور مناسب راہ نمائی اور مشاورت ضروری ہوتی ہے۔

ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ اور رویوں پر برسوں کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مستقبل کا خوف یا کل کے اندیشوں سے گھبرانے کے بجائے فوبیا کے شکار افراد کو اگر اس بات پر آمادہ کرلیا جائے کہ وہ ہمت اور حوصلے سے کام لیتے ہوئے ڈٹ کر‌ حالات کا مقابلہ کریں تو ان کی حالت میں بتدریج بہتری آسکتی ہے اور مسائل کے حل کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

0

20

Comments

comments