ماسک کے حق میں ہوں، لیکن پہننا لازمی نہیں کروں گا، صدر ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس حق میں ہیں کہ لوگ عالمی وبا کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے اپنے چہروں پر ماسک پہنیں لیکن وہ یہ پابندی نہیں لگائیں گے کہ اسے لازمی پہنا جائے۔

ٹیلی وژن چینل فاکس کے پروگرام فاکس نیوز سنڈے میں نشر ہونے والے انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ماسک کی اہمیت تسلیم کرنے والوں میں شامل ہوں۔ میرا خیال ہے کہ ماسک اچھی چیز ہے۔ لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا کہ اگر ہر شخص ماسک پہن لے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

صدر ٹرمپ کا یہ انٹرویو جمعے کے روز وائٹ ہاؤس میں ریکارڈ ہونے کے بعد فاکس نیوز کے اتوار کے شو میں نشر کیا گیا۔

صدر ٹرمپ عالمی وبا کے آغاز کے بعد سے اب تک صرف ایک بار ماسک کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ یہ وہ موقع تھا کہ جب انہوں نے واشنگٹن کے مضافات میں واقع ایک فوجی اسپتال کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر ایک صحافی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ اسپتال میں ماسک پہننا چاہیے۔

تاہم امریکہ کی پچاس ریاستوں میں، جہاں کرونا وائرس تیزی سے پھیلا تھا، وہاں کئی شہروں کے میئرز نے یہ پابندی عائد کر دی تھی کہ وہ گھروں سے باہر نکلتے ہوئے ماسک پہنیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کا خیال یہ ہے کہ ماسک کی پابندی نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ رضاکارانہ عمل ہونا چاہیے۔

اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ لوگوں کو کچھ آزادی ہونی چاہیے۔ میں ماسک پہننے کو قانونی تقاضا بنانے پر یقین نہیں رکھتا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں وبائی امراض کے ایک شہرت یافتہ ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی اور امریکی سرجن جنرل جیروم ایڈمز کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے وبا کے ابتدائی دنوں میں ماسک پہننے کو غیر ضروری قرار دیا تھا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ڈاکٹر فاؤچی ماسک نہیں پہنتے، ہمارے سرجن جنرل بہت شاندار شخصیت ہیں۔ انہوں نے بھی کہا تھا کہ ماسک پہننے کی ضرورت نہیں۔ لیکن پھر اچانک ہر کسی نے کہنا شروع کر دیا کہ ماسک پہنیں۔ اور آپ کو معلوم ہے کہ ماسک پہننے سے مسائل بھی ہوتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں امریکہ میں ہر روز 70 ہزار کے لگ بھگ نئے مریض سامنے آ رہے ہیں۔ ملک میں ایک لاکھ 42 ہزار افراد اس مہلک وائرس سے مر چکے ہیں جب کہ متاثرین کی تعداد 38 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ دونوں اعداد دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہیں۔

صحت کے ماہرین اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں مزید ہزاروں امریکی لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔