وزن کم کرنے کے لیے دن میں دو بار ورزش کرنے کا خیال کتنا کارآمد؟

وزن گھٹانے کے لیے ورزش بے حد اہم سمجھی جاتی ہے، مستقل بنیادوں پر جسمانی طور پر فعال رہنا یوں تو صحت مند رکھتا ہی ہے تاہم باقاعدگی سے ورزش کرنے کی اپنی اہمیت ہے۔

بعض افراد کا خیال ہے کہ وزن گھٹانے کے لیے اگر ورزش کرنی ہے تو پھر دن میں دو بار کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوں اور جلد حاصل ہوں۔

بظاہر یہ فائدہ مند بھی نظر آتا ہے، زیادہ سے زیادہ فعال رہنا جسم کو فٹ اور صحت مند رکھتا ہے، ماہرین کے مطابق آپ جسمانی طور پر جتنا زیادہ فعال رہیں گے اتنا ہی کم بیمار ہوں گے۔

جسمانی طور پر فعال رہنا مسلز کی نشونما اور میٹا بولک نظام کی بہتری میں بھی اضافہ کرتا ہے۔

تاہم دن میں دو دفعہ ورزش کرنے سے بہت سے نقصانات ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دن میں ایک سے زائد بار ورزش کرنا جسم پر غیر ضروری دباؤ ڈالنا ہے۔

ان کے مطابق دن میں کئی بار ورزش مختلف کھیلوں کے ایتھلیٹس کرتے ہیں جنہیں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام روٹین میں اس عمل کو اپنانے سے سب سے بڑا خطرہ نیورو مسکیولر سسٹم کو ہے اور اعصاب اس سے سخت متاثر ہوسکتے ہیں۔

علاوہ ازیں تھکاوٹ کے باعث چوٹ لگنے کا خطرہ بھی ہوسکتا ہے، سخت ورزش سے رات میں نیند میں ڈسٹربنس بھی پیدا ہوسکتی ہے جس سے نیند پوری نہ ہونے کا امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق اضافی ورزش قوت مدافعت پر بھی دباؤ ڈالتی ہے۔ ورزش کے 2 ٹریننگ سیشنز کے درمیان جسم کو آرام کا موقع نہیں ملتا جس سے جسم اندرونی طور پر تھکاوٹ کا شکار ہونے لگتا ہے۔

اس دوران اگر بھاری بھرکم ورزشیں کی جائیں تو ہارمونز کا توازن بگڑنے کا بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آپ دن میں دو بار ورزش کرنا ہی چاہتے ہیں تو انہیں ہلکا پھلکا رکھیں۔ صبح کے وقت جم میں ہلکی پھلکی ورزش کے بعد شام میں کم فاصلے کی جاگنگ یا یوگا بہترین رہے گا۔

Comments

comments