پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں خوفناک اضافہ ،تعداد کتنی ہوگئی؟لرزہ خیزانکشاف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر مملکت برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر درشن نے سینٹ کو بتایا ہے کہ ایچ آئی وی ایڈز کے مرض میں مبتلا مریضوں کو علاج معالجے کیلئے قائل کرنا پڑتا ہے۔ جمعہ کو کرنل (ر) سید طاہر حسین مشہدی نے توجہ مبذول نوٹس پر کہا کہ ایک سروے کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ایچ آئی وی‘ ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سینٹ میں کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی کے توجہ مبذول نوٹس کاجواب دیتے ہوئے ڈاکٹر درشن نے کہا کہ ایچ آئی وی ایڈز کے مرض میں مبتلا
مریض اس بیماری کو چھپاتے ہیں‘ یہ مرض مختلف طریقوں سے پھیلتا ہے‘ معاشرے میں اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ اضلاع کی سطح پر سیمینار کرائے جارہے ہیں تاکہ عوام کو اس بارے میں آگاہی فراہم کی جاسکے۔ کمیونٹی بیسڈ سنٹرز بھی بنائے جارہے ہیں۔ اس مرض میں مبتلا لوگوں کو علاج معالجے کی طرف قائل کیا جاتا ہے۔ ایک لاکھ 33 ہزار سے زائد مریضوں کے اس مرض میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے۔ 10 ہزار مریضوں کا علاج معالجہ کیا جارہا ہے۔اجلاس کے دور ان چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے مختلف ارکان کی طرف سے پیش کی جانے والی تحاریک التواء نمٹا دیں۔ اجلاس کے دوران سینیٹر کریم احمد خواجہ نے امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ امور کے بیان کے حوالے سے تحریک التواء منظوری کے تعین کے لئے پیش کی۔ چیئرمین کی ہدایت پر انہوں نے یہ تحریک التواء واپس لے لی۔ اس معاملے پر ایوان پہلے ہی بحث کر چکا ہے۔ سینیٹر سسی پلیجو کی تحریک التواء کے حوالے سے چیئرمین نے کہا کہ متعلقہ میٹریل فراہم کیا جائے تب اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے یہ تحریک التواء موخر کردی۔ اجلاس کے دور ان چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو آرٹیکل 255 میں ترمیم کیلئے پیش کئے جانے والےدستور (ترمیمی) بل 2017ء پر غور کے لئے مزید وقت دیدیا۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جاوید عباسی نے چیئرمین سے استدعا کی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا نکتہ نظر سامنے نہیں آسکا کیونکہ ان کے چیئرمین نہیں ہیں اس لئے مزید وقت دیا جائے۔ چیئرمین نے کمیٹی کو مزید 60 یوم کا وقت دے دیا۔سینٹ نے دی میرین انشورنس بل 2017ء بل کی منظوری دے دی۔ جمعہ کو ایوان بالا میں وزیر تجارت و ٹیکسٹائل انڈسٹری پرویز ملک نے تحریک پیش کی کہ میرین انشورنس کی تجارت کے قاعدے وضع کرنے کے بل دی میرین انشورنس بل 2017ء کو قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے۔ چیئرمین نے ایوان کی رائے حاصل کرنے کے بعد بل کی شق وار منظوری حاصل کی جس کے بعد حتمی منظوری کے لئے بل ایوان میں پیش کیا گیا۔ ایوان بالا نے بل کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی۔