چین میں کرونا وائرس سے 17 ہلاکتیں، دو شہروں میں سفری پابندیاں

چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے، جس کے بعد حکومت نے دو شہروں کے لیے سفری پابندیاں عائد کرتے ہوئے لوگوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے، ‘رائٹرز’ کے مطابق، چین کا وسطی شہر ‘ووہان’ کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر ہے، جہاں سی فوڈ انڈسٹریز قائم ہیں، جب کہ جانوروں کی خرید و فروخت کے لیے بھی یہ علاقہ بہت مشہور ہے۔

ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ کرونا وائرس سی فوڈ اور جانوروں سے رابطے کے سبب اور ایک متاثرہ شخص سے دوسرے شخص تک پھیلتا ہے۔

جمعرات کو چین کی حکومت نے ووہان اور ہونگ گینگ شہر میں پابندیوں کا اعلان کیا جس کے تحت دونوں شہروں کے داخلی و خارجی راستے بند کر دیے، جب کہ شہریوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ شہر چھوڑ کر باہر نہ جائیں۔

حکام نے ووہان جانے والی ٹرینوں پر پابندی لگا دی جب کہ طیاروں کو بھی ووہان جانے سے روک دیا ہے۔

حکام نے عوامی بسوں اور سب ویز کو بھی معطل کر دیا ہے اور کہا ہے کہ عوام کو صرف ضرورتاً ہی ووہان جانے کی اجازت ہوگی۔

حکومت کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں قائم مختلف کمپنیوں نے اپنے عملے کو وسطی شہر ووہان کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

چین کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد 600 تک پہنچ چکی ہے۔

حکومت نے سرکاری ملازمین پر زور دیا ہے کہ وہ نزلہ، زکام، بخار اور ٹھنڈ کی علامت ظاہر ہونے پر انتہائی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ سفر کے دوران یا گھر سے نکلتے وقت ماسک استعمال کریں۔

کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے مختلف کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو ماسک فراہم کر دیے ہیں۔

چین کی مختلف کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو کرونا وائرس سے بچانے کی غرض سے بڑی تعداد میں ماسک تقسیم کرنا شروع کر دیے ہیں۔

چین کی کچھ بڑی کمپینیز جیسے فوکس کون، ہواوے ٹیکنالوجیز اور ایچ ایس بی سی ہولڈنگس نے اس حوالے سے اپنے ملازمین کے لیے ایڈوائزری بھی جاری کر دی ہے۔

حکومت نے نجی کمپنیوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ متاثرہ مریض کی ہر ممکن مدد کریں۔

فوکس کون کے بانی ٹیری گو نے تائیوان میں نئے قمری سال کے آغاز پر بدھ کو منعقدہ ایک تقریب میں مشورہ دیا کہ ملازمین چین کے سفر سے احتیاط برتیں جب کہ جو افراد ووہان سے واپس آئے ہیں وہ بھی گھر والوں سے الگ تھلگ رہیں۔

ایپل سپلائر نامی کمپنی نے ووہان میں کام کرنے والے اپنے ملازمین کو ماسک تقسیم کرتے ہوئے ان کا وقفے وقفے سے درجہ حرارت جانچنے کا بھی سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

ادھر، ہوائے ٹیکنالوجیز نے بھی اپنے عملے کو ووہان کا غیر ضروری سفر کرنے سے منع کر دیا ہے۔ انہیں یہ بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ جانوروں سے بھی دور رہیں۔ کمپنی نے جراثیم کش اسپرے کرتے ہوئے وائرس سے بچنے کے لیے کنٹرول ٹیمیں بھی تشکیل دی ہیں۔

سائٹک سیکیورٹیز اور انویسٹمنٹ بینک چائنا، چائنا انٹرنیشنل کیپیٹل کارپوریشن نے اپنے ملازمین کو بغیر اطلاع دیے ووہان کا سفر کرنے سے منع کر دیا ہے۔

ایچ ایس بی سی نے کہا کہ اس نے ملازمین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ووہان کے سفر سے انتہائی احتیاط برتیں۔

کمپنی کے ترجمان نے ایک اِی میل میں کہا ہے کہ انہوں نے اپنی دفتری عمارت اور دیگر مقامات کو احتیاطی تدابیر سے منسلک کر دیا ہے اور تمام ملازمین سے کہا ہے کہ وہ صاف ستھرائی کے تمام اصولوں پر سختی سے پابند رہیں اور بیماری کی صورت میں ڈاکٹروں سے فوری رابطہ کریں اور گھروں تک محدود رہیں۔

متعدد کمپنیاں اس وائرس سے متعلق تشویش میں مبتلا ہیں اور عالمی معیار کے احتیاطی اقدامات اٹھا رہی ہیں۔

انٹرنیشنل ایس او ایس کی ہیلتھ کنسلٹنگ کے میڈیکل بورڈ کے ڈائریکٹر انتھونی رینشا نے بتایا کہ وائرس سے متعلق معلومات اور مشورے کے لیے اب تک 100 سے زیادہ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے میڈیکل اور ٹریول سیکیورٹی سروسز فرم سے رابطہ کیا ہے۔

بیشتر کمپنیز نے کرائسیس ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو مسلسل ملازمین سے رابطے میں ہیں اور تمام صورتِ حال پر انہوں نے نظریں جمائی ہوئی ہیں۔

امریکی کار ساز کمپنی جنرل موٹرز نے عارضی طور پر کام بند کر دیا ہے اور تمام مینوفیکچرنگ بیسز کو تالا لگا دیا ہے۔

امریکی کوریئر سروس ‘فیڈیکس کارپوریشن’ نے کہا ہے کہ وہ ٹیم ممبران اور اپنے صارفین کو سرجیکل ماسک فراہم کر رہی ہے۔

ٹریول ڈاٹ کام جیسے ٹریول بُکنگ پلیٹ فارمز کا کہنا ہے کہ صارفین ووہان کا سفر نہ کرنا چاہیں تو انہیں ان کی ادا کردہ رقم بغیر کسی کٹوتی کے واپس کر دی جائے گی۔

ہانگ کانگ کے کیتھے پیسیفک ایئر ویز لمیٹڈ نے کہا ہے اس نے 15 فروری تک ووہان جانے والے مسافروں کو بغیر کسی چارج کے پروازیں تبدیل کرنے یا منسوخ کرنے کی اجازت دے دی ہے اور کیبن کے عملے کو بھی ماسک پہننے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔