چین: کرونا وائرس سے ہلاکتوں میں اضافہ، متاثرہ مریضوں کی شرح میں کمی

چین میں کرونا وائرس سے متاثرہ مزید 108 افراد کی ہلاکت کے بعد اس وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار 16 تک پہنچ چکی ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کا کہنا ہے کہ منگل کو کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک روز کے دوران اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی یومیہ شرح بڑھ رہی ہے تاہم اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی یومیہ تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ 10 فروری کو کرونا وائرس کے مزید 2478 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ تاہم اتوار کو نئے کیسز کی تعداد 3062 تھی۔ اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 42638 ہو چکی ہے۔

دوسری جانب امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں کرونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آیا ہے جس کے بعد امریکہ میں اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔

امریکہ کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کا پیر کو جاری اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ کیلی فورنیا کے جس شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اسے حال ہی میں چین کے شہر ووہان سے امریکہ منتقل کیا تھا۔

چین کے شہر ووہان میں شہریوں کے غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے پر بھی پابندی ہے۔

سی ڈی سی کا مزید کہنا ہے کہ متاثرہ شخص کو چین سے سین ڈیاگو کی میرین ایئر اسٹیشن میں قائم خصوصی مقام پر 14 روز تک رکھا گیا تھا جس کے بعد اسے جانچ کے لیے یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے میڈیکل سینٹر میں اکیلے رکھا گیا۔ تاہم اب مریض کی حالت بہتر ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے لگ بھگ اپنے 800 شہریوں کے چین کے شہر ووہان سے نکالا ہے جنہیں ابتدائی طور پر نیوی کی ایئر بیس پر رکھا گیا تھا۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ چین سے باہر کرونا وائرس کے کیسز کا پھیلاؤ بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کو اس وبا پر قابو پانے کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

عالمی ادارہ صحت اور چین کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق چین سے باہر اب تک 24 ملکوں میں 319 کیسز سامنے آئے ہیں اور اس وائرس سے ہانگ کانگ اور فلپائن میں دو اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔

جاپان کی یوکوہاما پورٹ پر روکے جانے والے بحری جہاز میں مزید 65 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 135 تک پہنچ چکی ہے جس میں 20 امریکی شہری بھی شامل ہیں۔

بحری جہاز میں برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا اور بھارت سمیت دیگر ملکوں کے 3700 مسافر اور عملے کے افراد سوار ہیں جسے جاپان نے کرونا وائرس کے خدشے کے پیشِ نظر چار فروری کو یوکوہاما پورٹ پر روک لیا تھا۔