ڈینگی: ملک بھر میں مزید کیسز کی تصدیق، اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ

اسلام آباد: ملک بھر میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، وفاقی دار الحکومت میں وبائی صورت حال کے باعث ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد نے ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈینگی کی وبائی صورت حال پر قابو پانے کے لیے اسلام آباد میں انتظامیہ کی جانب سے ٹائر شاپس مالکان پر ٹائرز ڈسپلے کرنے پر پابندی عاید کر دی گئی۔

ضلعی مجسٹریٹ نے تنبیہہ کی ہے کہ خلاف ورزی پر سیکشن 144 کے تحت کارروائی ہوگی، شہری پودوں کو پانی دینے میں بھی احتیاط سے کام لیں۔

ادھر پنجاب میں ڈینگی وائرس کے مزید کیسز سامنے آ گئے ہیں، 24 گھنٹے میں مزید 130 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، ڈی جی ہیلتھ آفس کا کہنا ہے کہ 60 افراد کا تعلق راولپنڈی سے اور 58 کا اسلام آباد سے ہے۔

لاہور، بہاولپور، نارووال سے ڈینگی وائرس میں مبتلا 2،2 مریض رپورٹ ہوئے، اٹک سے 6، سرگودھا سے5، گوجرانوالہ، مظفر گڑھ سے 4،4 مریض، ٹوبہ ٹیک سنگھ، وہاڑی، سیالکوٹ، گجرات سے ایک ایک مریض رپورٹ ہوئے۔

ڈی جی ہیلتھ کے مطابق پنجاب میں رواں سال 1299 افراد ڈینگی وائرس میں مبتلا ہوئے، صوبے میں ڈینگی وائرس میں مبتلا 2 مریضوں کی موت ہوئی۔

خیبر پختون خوا سے بھی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، سوات میں مزید 13 افراد میں ڈینگی وائرس کا شکار ہو گئے ہیں، لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہو گئی۔

کوہاٹ میں بھی انسداد ڈینگی کے لیے محکمہ صحت کی کوششیں کار آمد ثابت نہ ہو سکیں، ضلع میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 32 تک پہنچ گئی ہے۔

کراچی میں ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر خادم کا کہنا ہے کہ وہ خود بھی ڈینگی کا شکار رہے ہیں، ڈی ایم ایس کے 3 بچے بھی ڈینگی سے متاثر ہوئے تھے، مجھے لیاری میں مچھر کے کاٹنے سے ڈینگی ہوا تھا، چند ماہ پہلے بخار کے بعد معائنہ کرایا تو ڈینگی کی تصدیق ہوئی، ایسے مقامات کی نشان دہی کرنا ہوگی جہاں ڈینگی لاروا موجود ہوتا ہے۔

دریں اثنا، آج وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا محمود خان کی زیر صدارت انسداد ڈینگی وائرس سے متعلق خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈینگی کے تدارک سے متعلق وزیر اعلیٰ کے پی کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بتایا گیا کہ صوبے میں ڈینگی وائرس کے 1889 میں سے 891 کیسز کی تصدیق ہوئی، اب تک ڈینگی وائرس سے کسی مریض کی موت نہیں ہوئی، وائرس کی تشخیص کے لیے سرکاری اسپتالوں میں خصوصی سیل قایم کر لیے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ محمود خان نے ہدایت کی کہ ڈینگی وائرس سے متعلق افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، مسئلے کے مستقل حل کے لیے ہنگامی بنیاد پر اینٹومالوجسٹ کی بھرتی کو یقینی بنایا جائے، متعلقہ محکمے انسداد ڈینگی وائرس کے لیے فعال کردارادا کریں۔

قبل ازیں، پشاور میں وزیر صحت ہشام انعام اللہ نے ڈینگی کے حوالے سے پریس کانفرنس میں کہا کہ صوبے میں ڈینگی وائرس پھیلا ہوا ضرور ہے لیکن وبائی شکل اختیار نہیں کی، یہ پشاور کے چند نواحی علاقوں سمیت کچھ اضلاع میں پھیلا ہے، متاثرہ علاقوں میں ہر سال ڈینگی وائرس آتا ہے۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ 1800 کیسز میں سے 903 میں ڈینگی وائرس پایا گیا، کوشش ہے اگلے سال ڈینگی وائرس کو مکمل ختم کر دیں، ادویات بھی اسپتالوں کو مطلوبہ مقدار سے زیادہ مہیا کی جا چکی ہیں۔

Comments

comments