کروناوائرس سے متعلق تحقیق، ماہرین کی نئی دریافت

واشنگٹن: عالمی وبا سے متعلق امریکا میں ہونے والی نئی تحقیق میں ماہرین نے ایسی آٹو اینٹی باڈیز دریافت کی ہیں جو وائرس سے لڑنے کی بجائے مدافعتی نظام پر حملے کا باعث بنتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں ہارورڈ ہوئیز میڈیکل انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ریسرچ میں شامل کم از کم 10 فیصد مریضوں میں ایسی آٹو اینٹی باڈیز کو بنتے دیکھا گیا جو وائرس سے لڑنے کی بجائے مدافعتی نظام پر حملہ کرنے کا باعث بننے والا عنصر ہے۔ یہ تحقیق جریدے جرنل سائنس میں شائع ہوچکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تحقیق میں شامل سنگین حد تک بیمار کم از کم ساڑھے 3 فیصد مریضوں کے ان جینز میں تبدیلیوں کو دیکھا گیا جو اینٹی وائرل دفاع کا حصہ ہوتے ہیں، اس ریسرچ میں کرونا کے جان لیوا بننے کے چند بنیادی عناصر کی نشاندہی بھی کی گئی، جبکہ 10 فیصد مریضوں میں پائی جانے والی اینٹی باڈیز دفاعی عمل کو بلاک کردیتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ اینٹی باڈیز کووڈ 19 سے معمولی یا معتدل حد تک متاثر مریضوں میں نظر نہیں آتیں، اسی بنیاد پر ماہرین نے بتایا کہ کرونا سے متاثر افراد میں علامات کی شدت معتدل سے جان لیوا ہوسکتی ہے اور جان لیوا حد تک متاثر مریضوں میں اس کا اندازہ کئی ہفتوں قبل مدافعتی نظام کے کمزور پہلوؤں سے کیا جاسکتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ تحقیق میں شامل 987 میں سے 101 مریضوں میں یہ نقصان دہ اینٹی باڈیز کی دریافت دنگ کردینے والا مشاہدہ تھا، نتائج سے پہلی بار وضاحت کرنے میں مدد ملتی ہے کہ آخر کووڈ کچھ افراد میں بہت زیادہ سنگین کیوں ہوتا ہے جبکہ بیشتر افراد کو اس وائرس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

محققین نے بتایا کہ اگر کسی میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوتی ہے تو اس کا آٹو اینٹی باڈیز ٹیسٹ ضرور ہونا چاہیے، جس سے ان اینٹی باڈیز کو خون سے ہٹانا ممکن اور جان لیوا اثرات کی شدت میں کمی لائی جاسکے گی۔

ماہرین نے اس تحقیق کے دوران مریضوں کے جینومز کو اسکین کیا، خاص طور پر ان 13 جینز کے سیٹس کو، جو انفلوائنزا کے خلاف مدافعت پر اثرانداز ہوتے ہیں، صحت مند افراد میں ان جینز کے مالیکیولز جسمانی دفاعی نظام کے طور پر کام کرتے ہیں، وائرسز اور بیکٹریا کو شناخت کرکے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہیں تاکہ دیگر مدافعتی نظام متحرک ہوسکیں۔

مندرجہ بالا مراحل سمیت دیگر امور پر غور کے بعد سائنس دانوں نے تقریباً دس فیصد مریضوں میں آٹو اینٹی باڈیز دیکھیں اور یہ وہ مریض تھے جو معتدل بیمار تصور کیے گئے تھے، سنگین بیمار افراد میں یہ سلسلہ نہیں تھا۔

Comments