کرونا وائرس: اگلے اٹھارہ ماہ میں چیلنجز کے لیے تیار رہنا ہو گا

اس وقت امریکہ سمیت پوری دنیا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔ مگر مرض کی شدت اور طوالت کا جو بڑھتا ہوا رجحان ہے، وہ آنے والے بدتر حالات کی نشاندہی کر رہا ہے۔

میڈیم ڈاٹ کام کے پلیٹ فارم پر مختلف لوگ اس صورت حال پر اپنی رائے اور تجزیے پیش کر رہے ہیں۔ ایک مضمون نگار ٹامس پویو نے لوگوں کی توجہ مستقبل کی طرف دلاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا موجودہ صحت کا نظام یہ بوجھ نہیں اٹھا سکے گا۔ ہر ایک سوال کر رہا ہے کہ ایسے میں مجھے کیا کرنا چاہیے، مگر کسی کے پاس اس کا شافی جواب موجود نہیں ہے۔

سوالات بہت سے ہیں، مثال کے طور پر اس وقت کیا صورت حال ہے، اس سے نمٹنے کے کیے کیا آپشنز موجود ہیں، کرونا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بہترین حکمت عملی کیا ہو سکتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔

اس وقت ملکوں کے سامنے صرف دو آپشنز ہیں، اول یہ کہ اس سے فوری طور پر انتہائی سختی سے نمٹا جائے یا پھر خود کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے اور اگر ایسا کیا گیا تو پھر لاکھوں لوگوں کی اموات یقینی ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام پہلووں کو سامنے رکھ کر فوری طور پر یہ جنگ شروع کی جائے نہ کہ بتدریج اقدامات اٹھائے جائیں۔ ہو سکتا ہے ان فوری اقدامات کی وجہ سے بہتر نتائج مہینوں کے بجائے ہفتوں میں حاصل ہو جائیں۔

مصنف نے اپنے طویل مضمون میں کرونا کے پھیلاؤ اور موجودہ حالات کا تجزیہ اعداد و شمار اور چارٹس کی مدد سے کیا ہے۔ ان بڑے بڑے مسائل کی نشاندہی کی ہے جو اس وقت درپیش ہیں یا ہونے والے ہیں۔ ان میں طبی سہولتوں سمیت سماجی اور اور اقتصادی معاملات شامل ہیں۔

مصنف نے انتباہ کیا کہ اگر بر وقت مناسب اقدام نہ اٹھائے گئے تو 75 فی صد امریکی اس مرض کی گرفت میں آ جائیں گے اور چار فی صد سے زیادہ ہلاک ہو سکتے ہیں۔ موجودہ اسپتال، ٹسٹنگ کٹس، انتہائی نگہداشت کے کمرے، طبی عملہ اور دیگر طبی سہولتیں اس وبا کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔

مصنف نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ طبی سہولتوں کے اس ممکنہ فقدان کے سبب ان لاکھوں امریکیوں کی زندگی بھی خطرے میں ہے جو دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں، کیوںکہ انہیں اسپتالوں میں جگہ ملے گی اور نہ مناسب دوا علاج ممکن ہو سکے گا۔ ہمیں ہر حال میں اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس کے علاج کے لیے ویکسین اور ادویات کی تیاری پر زور دینا ہو گا۔ اس مقصد کے لیے ہمیں دوسرے ملکوں کی کامیابیوں سے سیکھنا چاہیے۔