کرونا وائرس سے متعلق غلط فہمیاں اور حقائق

کرونا وائرس سے متعلق بہت سی سوشل میڈیا پوسٹس میں ایسے دعوے کیے جا رہے ہیں جو حقیقت سے دور ہیں اور لوگوں کے لیے وائرس سے متعلق غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔

ان میں سے چند کے بارے میں غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی میں حقائق پیش کئے گئے ہیں۔

عام بخار اور کرونا وائرس کی علامات میں فرق ہے؟

کچھ فیس بک پوسٹس میں یہ کہا جا رہا ہے یہ کرونا وائرس سے متاثرہ فرد میں خشک کھانسی کی علامت ظاہر ہوتی ہے جب کہ ناک بہنا اور بخار عام فلو کی نشانی ہے۔

یہ دعوی غلط ہے

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا کے پروفیسر برینڈن براؤن نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بھی ناک بہنا، بلغم اور عام بخار جیسی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔

بعض فیس بک پوسٹس میں یہ دعوی بھی کیا جا رہا ہے کہ کرونا وائرس کی علامات ایک، ایک کر کے ظاہر ہوتی ہیں جیسے گلے کی خراش پہلے ظاہر ہوتی ہے پھر نمونیا ہوتا ہے وغیرہ۔

امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق کرونا وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی، سانس لینے میں مشکل پیدا ہونا ہیں۔ ان علامات کے ظاہر ہونے کی کوئی ترتیب نہیں اور یہ ایک ساتھ بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

وائرس کس درجہ حرارت میں زندہ رہ سکتا ہے؟

بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ وائرس 26 یا 27 درجے سینٹی گریڈ پر مر جاتا ہے۔ یہ ہاتھوں ہر چند منٹ تک زندہ رہ سکتا ہے جب کہ کپڑے اور دھاتوں پر 12 گھنٹوں تک اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے۔

اس دعوے کے بارے میں طبی ماہرین نے ابھی تک کسی خاص وقت کا تعین نہیں کیا ہے۔

سی ڈی سی کے کرونا وائرس سے متعلق معلوماتی صفحہ میں اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ ابھی معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ کیا موسم اور درجہ حرارت اس وائرس کے پھیلاؤ میں فرق ڈال سکے گا یا نہیں؟

عالمی ادارہ صحت کے کرونا وائرس سے متعلق معلوماتی صفحے میں کہا گیا ہے کہ یہ وائرس مختلف سطحوں پر چند گھنٹوں سے لے کر کئی دن تک موجود رہ سکتا ہے۔

جرمنی کی گریف والڈ یونی ورسٹی اسپتال کی ایک ریسرچ میں دیکھا گیا ہے کہ سارس اور مرس، جو کرونا وائرس کی فیملی سے تعلق رکھنے والے وائرس ہیں، دھاتوں، گلاس اور پلاسٹک کی سطحوں پر عام کمرے کے درجہ حرارت میں نو دن تک موجود رہتے ہیں۔

کیا پانی پینے سے کرونا وائرس سے بچا جا سکتا ہے؟

سوشل میڈیا کی پوسٹس میں یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ گرم پانی کے غرارے کرنے سے اس وائرس کو پھیپھڑوں تک پہنچنے سے روکا جا سکتا ہے۔

برینڈن براؤن کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ پانی جسم کے لیے بہت اہم ہے مگر پانی کے درجہ حرارت کو تبدیل کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ گرم پانی کے غرارے کرنے سے گلے کی خراش میں آفاقہ ہو جاتا ہے مگر اس سے کرونا وائرس کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

وائرس سے بچنے کے لیے ماسک پہننا لازمی ہے

ایک وائرل فیس بک پوسٹ میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ یہ وائرس چونکہ باقی وائرسز سے زیادہ بڑا ہے اس لیے کوئی بھی ماسک پہن کر اسے جسم میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔

نیو اینگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں چینی محققین نے اس بارے میں لکھا ہے کہ یہ وائرس ساٹھ سے ایک سو چالیس نینو میٹر کا ہوتا ہے۔

سی ڈی سی نے ایسے طبی اہل کاروں کو جو کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ہدایات دی ہیں کہ وہ N95 ماسک پہنیں۔

وہ لوگ جن میں علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں انہیں ماسک پہننے کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے۔ جب کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایسے لوگوں کو ماسک پہننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔