کرونا وائرس کی ویکسین ریکارڈ مدت میں تیار کر لی گئی

الرجی اور وبائی بیماریوں سے متعلق نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکڑ انتھونی فوسی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین کی ٹیسٹنگ صرف تین مہینوں کے اندر شروع ہو سکتی ہے۔ اور یہ حقیقت ہے۔

اس سے قبل سانس کے خطرناک مرض سارس کے خلاف تیار کی جانے والی ویکسین کے لیبارٹری ٹرائل شروع کرنے میں 20 مہینے لگ گئے تھے۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ تین مہینوں کے اندر ویکسین کے انجکشن تیار کر لیں گے۔ بلکہ تین مہینوں کے اندر ویکسین حفاظتی تجربات اور اس کی کارکردگی جانچنے کے لیے میسر ہو جائے گی، جس کے بعد اس پر مزید کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

لیکن وہ وقت ماضی کے مقابلے میں پھر بھی بہت کم ہو گا جو ویکسین تیار ہونے کے بعد لوگوں تک پہنچنے کے لیے درکار ہوتا ہے۔

اس سے پہلے ویکسین بنانے کے لیے 18 ویں صدی کی ٹیکنیک پر عمل کیا جاتا تھا۔ یہ طریقہ ایڈورڈ جینیفر نے 18 ویں صدی میں دریافت کیا تھا۔ انہوں نے دنیا کی سب سے پہلی ویکسین چیچک کے خلاف بنائی تھی۔ اس طریقہ کار کے تحت ویکسین میں بیماری کا کمزور جراثیم، یا جراثیم کا کوئی حصہ یا مردہ جراثیم استعمال کیا جاتا ہے۔ جب وہ انسانی جسم میں پہنچتا ہے تو انسان کا معدافتی نظام اس کے خلاف سرگرم ہوجاتا ہے اور اس کا توڑ پیدا کر لیتا ہے۔ جس سے جراثیم حملہ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔

کچھ عرصہ پہلے تک معدافتی ویکسین بنانے کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جاتا رہا ہے، لیکن اس طرح ویکسین بنانے اور اسے ٹیسٹ کر کے مارکیٹ میں لانے میں کم ازکم 20 مہینے لگ جاتے تھے، جس دوران لوگوں کو مرض سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ویکسین دستیاب نہیں ہوتی تھی۔

ویکسین بنانے والی کمپنیاں ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر ویکسین بنانے کے لیے مطلوبہ جراثیموں کی افزائش عموماً مرغیوں کے انڈوں میں کرتی ہیں تاکہ لاکھوں کی تعداد میں ٹیکے تیار کیے جا سکیں۔ اس سارے عمل میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔

مگر حالیہ برسوں میں سائنس دانوں نے ویکسین بنانے کے لیے یکسر مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ اب وہ اسی مرض کے کمزور جراثیم، یا جراثیم کا کوئی حصہ استعمال کرنے کی بجائے، جراثیم کے جینیاتی کوڈ سے اس کا بلیو پرنٹ حاصل کرتے ہیں اور انسان کے معدافتی نظام کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ اس کا توڑ تیار کرے۔ اس ویکسین میں جراثیم کا ڈی این اے یا آر این اے کا فعال حصہ استعمال کیا جاتا ہے۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مائیکرو بیالوجی کے پروفیسر اینڈریو پکروز کہتے ہیں کہ اب سائنس دانوں کی ضرورت صرف وائرس کا جنیاتی کوڈ ہے اور یہ کوڈ مرض پھیلنے کے ابتدائی دنوں میں ہی مل جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چین میں کرونا وائرس کا پہلا مریض 31 دسمبر کو سامنے آیا اور دو ہفتے سے بھی کم وقت میں 11 جنوری کو چینی سائنس دانوں نے اس کے مکمل جینیاتی کوڈ کا بلیو پرنٹ جاری کر دیا۔

بلیو پرنٹ ہاتھ میں آنے کے بعد سائنس دانوں نے محض تین گھنٹوں میں اس کی ویکسین کا ڈئزائن تیار کر لیا۔ اور ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں نے اگلے ہی روز اسے تیار کرنا شروع کر دیا۔

اس وقت تین کمپنیاں کرونا وائرس کی ویکسین تیار کر رہی ہیں جن میں سے ایک، ڈی این اے استعمال کر رہی ہے جب کہ دوسری دو کمپنیاں آر این سے کام لے رہی ہیں۔ اب ماضی کے برعکس بہت جلد نئی ویکسین بڑے پیمانے پر دستیاب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔