کرونا وائرس ہے کیا اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

چین میں کرونا وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کے بعد دُنیا کے مختلف ملکوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا شروع کر دی ہیں۔ چین کے وسطی شہر ووہان کو اس وائرس کے پھیلاؤ کا گڑھ سمجھا جا رہا ہے۔

چین میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ووہان شہر میں آمدورفت کے ذرائع معطل کر دیے گئے ہیں۔ 800 سے زائد مریضوں میں وائرس کی تشخیص اور 25 ہلاکتوں کے بعد نیا اسپتال تعمیر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق نئے وائرس کو نویل کرونا وائرس 2019 کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے علاج کے لیے کوئی دوا موجود نہیں۔ یہ وائرس تیزی سے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے دُنیا بھر میں اس وائرس سے بچنے کے لیے وارننگ جاری کر دی ہے۔

کرونا وائرس ہے کیا؟

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کرونا وائرس فلو، کھانسی اور سانس کی بیماریوں کا موجب بننے والی ‘وائرس فیملی’ سے تعلق رکھتا ہے۔ جس میں سوائن فلو اور سارس جیسے وائرس بھی شامل ہیں۔

البتہ حال ہی میں وائرس کی ایک نئی قسم ‘نویل کرونا’ وائرس سامنے آیا ہے جو اس سے قبل انسانوں میں نہیں پایا گیا۔

نویل کرونا وائرس میں بھی فلو، نزلہ، سانس کی بیماریاں اور نمونیہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اور اگر نمونیہ بگڑ جائے تو انسان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ 31 دسمبر کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر چین کے شہر ووہان میں نمونیے کی شکایات سامنے آنیں۔ جس کے بعد سات جنوری کو نویل کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔

ادارے کا کہنا ہے کہ یہ وائرس وبائی مرض کا موجب بنتا ہے۔ جو جانوروں سے انسانوں اور پھر انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔

مشرقِ وسطی میں 2012 میں بھی کرونا وائرس کی ایک قسم نے وبائی شکل اختیار کر لی تھی۔ جس سے 858 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسے (مڈل ایسٹ ریسپریٹری سنڈروم) کا نام دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ 2014 میں سعودی عرب سے آںے والا پہلا امریکی شہری بھی اس وائرس سے متاثر ہوا تھا۔

یہ وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

عالمی ادارے کے مطابق یہ وائرس بلیوں اور اُونٹ کے ذریعے بھی انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ البتہ چین میں پھیلنے والے اس وائرس کے حوالے سے مختلف چہ موگوئیاں جاری ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ووہاں شہر کی ہول سیل گوشت کی مارکیٹ میں آنے والوں میں یہ وائرس داخل ہوا۔

خیال رہے کہ اس مارکیٹ میں گدھے، خنزیر، اُونٹ، بھیڑیں، لومڑیاں، بھیڑیے، چوہے، سانپ اور سمندری حیات فروخت کی جاتی تھیں۔ وائرس پھیلنے کے بعد حکام نے اس مارکیٹ کو سیل کر کے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

بعض غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس چمگادڑ کے سوپ اور زندہ چوہے کھانے سے پھیلا۔ البتہ سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر بھی جاری کر دی ہیں۔

ادارے کے مطابق باقاعدگی سے ہاتھ دھونا، ماسک کا استعمال، کھانسی، چھینک اور کھانا پکاتے وقت منہ ڈھانپ کر رکھنے سے اس بیماری کے پھیلاؤ سے بچا جا سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے فلو اور سانس کے مریضوں سے فاصلہ رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

اس مرض کے علاج کے حوالے سے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ تاحال کوئی ویکسین تیار نہیں کی جا سکی۔ البتہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس سے بچا جا سکتا ہے۔