کرونا ویکسین کا تجربہ، برطانیہ سے اچھی خبر کی امید

لندن: کرونا وائرس کا علاج تلاش کرنے کے لئےبرطانیہ میں دنیا کے سب سے بڑے ٹرائل کا آغاز ہوگیا، ویکیسن کا تجربہ اگر کامیاب رہا تو اس سے دنیا بھر میں موجود لاکھوں مریضوں کے علاج میں مدد ملے گی۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق ابتدائی مرحلے میں برطانیہ کے ایک سو بتیس اسپتالوں میں ایک ہزار افراد پر ویکیسن کا تجربہ کیا جائے گا اور اگلے 7 روز میں ہزاروں دیگر افراد بھی اس تجربے میں شامل ہو جائیں گے۔

محکمہ صحت نے خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں وائرس کی تشخیص اور علاج کے لیے برطانیہ کے ایک سو بتیس اسپتالوں سے ایک ہزار رضاکاروں کا انتخاب کیا گیا ہے جبکہ آئندہ ہفتے تجربے کو وسعت دی جائے گی جس کے بعد ہزاروں افراد اس میں شامل ہوجائیں گے۔ ویکسین کی آزمائش سے کرونا کی تشخیص میں مدد ملنے کا امکان ہے۔

 وزیر صحت میٹ ہینکوک کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت موجودہ دور کی سب سے بڑی ہیلتھ ایمرجنسی سے گزر رہے ہیں، حکومت عوام کی زندگیاں بچانے کی ہر ممکن کوشش کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروکار لائے رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی تحقیقی مہم شروع  کی ہے جس میں بہترین ڈاکٹرز کی ٹیم آپریشن کی نگرانی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویکیسن کا ٹرائل آکسفورڈ یونیورسٹی میں متعدی بیماریوں اور عالمی صحت کے پروفیسر پیٹر ہاربی اور میڈیسن اینڈ ایپیڈیمولوجی کے پروفیسرمارٹن لانڈرے کی زیر نگرانی شروع ہو چکا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی ویکسین کی دریافت کے لئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ریسرچ ترجیح بنیادوں پر کام کررہا ہے جس کے لئے حکومت نے دو اعشاریہ ایک ملین پاونڈز ادارے کو فراہم کیے۔

0

20

Comments

comments