کرونا ویکسین کے کلنیکل ٹرائلز آخری مرحلے میں داخل، شاندار جشن

لندن: برطانوی یونیورسٹی آکسفورڈ کی جانب سے منظور کی جانے والی کرونا ویکسین کے حتمی ٹرائل کا آغاز کردیا گیا، کلنیکل آزمائش شروع ہونے پر برازیل میں جشن بھی منایا گیا۔

برطانوی یونیورسٹی آکسفورڈ کی کرونا کے خلاف تیار کی جانے والی ویکسین کے حتمی ٹرائل کی آزمائش برازیل میں شروع کردی گئی، اس ضمن میں دس ہزار سے زائد رضاکاروں پر ویکسین کا تجربہ کیا جائے گا۔

برازیل کی ہیلتھ ریگولیٹری ایجنسی (انویسا) کی منظوری کے بعد  گذشتہ ہفتے کے آخر میں تقریبا 10,000 افراد نے رضاکارانہ طور پر خود کو ٹرائل کے لیے  پیش کیا، جن میں کم عمر بچے، نوجوان اور 70 سال کی عمر تک کے بزرگ  بھی شامل ہیں۔

ویکسین کی آزمائش کی قیادت فیڈرل یونیورسٹی برائے ساؤ پاؤلو (یونیفیسپ) کے خصوصی امیونوبائولوجکس (CRIE) میں کی جارہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق برازیل میں شروع ہونے والے ٹرائل پر جشن منایا گیا حالانکہ برطانوی ماہرین نے حکام کو آگاہ بھی کیا  oy کہ ویکسین کے نتائج فوری طور پر نہیں آسکتے مگر برازیل کے ڈاکٹرز اور حکومت کو ویکسین کی کامیابی کا کامل یقین ہے۔

برازیل کے عبوری وزیر صحت ایڈورڈو پازویلو نے اشارہ کیا جلد ہی کسی معاہدے پر دستخط ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوم کورونا وائرس جیسے وبائی مرض کو شکست دینے کی خواہش مند ہے۔

کرونا ویکسین کی تیاری میں شامل کمپنی ’اسٹرا زینیکا‘ پیشگی اعلان کرچکی ہے کہ انسانوں پر تجربہ کامیاب رہا تو 30 ملین کے قریب ویکسین کی خوراکیں تیار کی جائیں گی۔

برطانیہ میں تیار کی جانے والی ویکسین کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ رواں سال اگست تک ویکسین علاج کے لیے دستیاب ہوسکتی ہے۔ سانس دانوں کا خیال ہے کہ تمام آزائشی مراحل سے گزرنے کے بعد ویکسین 2021 اکتوبر تک حتمی طور پر تیار ہوگی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ’اڈریان ہل‘ کا کہنا تھا کہ رواں سال اگست سے ستمبر تک کرونا ویکسین سے متعلق حتمی رائے سامنے آئے گی، اکتوبر میں مارکیٹس میں دوا کی فراہمی کا آغاز ہوسکتا ہے۔

0

20

Comments

comments