کرونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچی تو ….. ڈبلیو ایچ او نے خطرے کی گھنٹی بجادی

جینیوا: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ اگر کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی تو دنیا بھر میں آکسیجن کی قلت پیدا ہوجائے گی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق  عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم نے بدھ کے روز خبردار کیا کہ اگر دنیا بھر میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا تو سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک ارب تک پہنچ گئی تو جان بچانے والی آکسیجن کی دنیا بھر میں قلت ہوجائے گی، کچھ ممالک میں ابھی سے ہی صورت حال خراب ہونا شروع ہوگئی ہے۔

ڈاکٹر ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ ’دنیا میں کرونا مریضوں کی تعداد 93 لاکھ تک پہنچ گئی جبکہ اب تک مرنے والے مریضوں کی تعداد 4 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئی، گزشتہ دنوں کے دوران دنیا بھر میں ایک ہفتے میں اوسطاً دس لاکھ کیسز سامنے آرہے ہیں، جس کی وجہ سے آکسیجن سلینڈر بھی نایاب ہورہے ہیں‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ مریضوں کی تعداد کی وجہ سے یومیہ 88 ہزار (6 لاکھ 20 ہزار) کیوبک میٹر والے آکسیجن سلینڈر کی ضرورت پیش پیش آرہی ہے۔

ڈاکٹر ٹیڈ روس کا کہنا تھا کہ کوویڈ 19 مرض پھیل رہا ہے، پوری دنیا میں مریضوں میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے، دنیا میں 10 لاکھ کیسز 3 ماہ میں رپورٹ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ 10 سے 20 لاکھ کیسز ہونے  میں صرف 8 دن لگے. بھارت،امریکا اور دیگر ممالک میں کرونا  کے کیسز میں بے انتہا اضافہ ہو چکا ہے۔

دبلیو ایچ او کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آنے والے ہفتے میں دنیا کے 120 ممالک کے لیے 14 ہزار آکسیجن سلینڈر کیے جائیں گے، آئندہ چھ ماہ میں ان کی تعداد کو بڑھا کر 1 لاکھ 70 ہزار تک پہنچایا جائے گا جس پر 1 ارب ڈالرز کے اخراجات آسکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ہنگامی پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان کا کہنا تھا کہ ’لاطینی امریکا کے ممالک میں کرونا کی صورت حال بدستور تشویشناک ہے، خطے میں ایک ہفتے کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ مریضوں کی اموات ہوئیں جبکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دیگر ممالک میں بھی کرونا کے کیسز کی تعداد میں 25.5 فیصد اضافہ ہوا‘۔

یاد رہے کہ کرونا سے متاثرہ افراد کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے انہیں مصنوعی طریقے سے سانس فراہم کی جاتی ہے، کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے افسوسناک صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔

0

20

Comments

comments