کورونا سے کن بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے؟ نئی تحقیق میں خوفناک انکشاف

لندن: برطانیہ میں کورونا وائرس اور دماغی بیماری میں تعلق پر تحقیق کے مطابق کورونا سے ڈپریشن، ڈیمینشیا، اسٹروک جیسے دماغی امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کا دماغ پر براہ راست اثر ہوتا ہے، اسپتال میں داخل ہونے والے اور آئی سی یو کے مریض دماغی امراض کے خطرے کی زد میں زیادہ ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کورونا وائرس میں مبتلا افراد 14 قسم کے دماغی امراض میں مبتلا ہوسکتے ہیں جن میں اینگرائٹی اور موڈ میں اتار چڑھاؤ کی شکایت عام ہے جبکہ اسٹروک اور ڈیمینشیا کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند پوری نہ ہونے سے سب سے پہلا اثر آپ کی جسمانی توانائی اور دماغی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ نیند کی کمی سے آپ سارا دن تھکن اور سستی کا شکا رہیں گے۔ آپ اپنے کام ٹھیک طرح سے انجام نہیں دے سکیں گے، نہ ہی نئے تخلقیی خیالات سوچ سکیں گے۔

یہی نہیں نیند کی کمی آپ کو بدمزاج اور چڑچڑا بھی بنا سکتی ہے۔ طویل عرصے تک نیند کی کمی کا شکار رہنے والے افراد موٹاپے، ڈپریشن، ذیابیطس، ذہنی دباؤ اور امراض قلب کا شکار ہوجاتے ہیں۔

22 مارچ کو طبی جریدے بی ایم جے نیوٹریشن، پریونٹیشن اینڈ ہیلتھ میں شائع ہونے والی تحقیق میں ماہرین کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ نیند کی کمی کے باعث کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کی جانب سے اس تحقیق میں میڈیکل اسٹاف کو بھی شامل کیا گیا جو کرونا مریضوں کا بہت زیادہ سامنا کرتے ہیں اور ہر وقت خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔

Comments