کورونا کی کتنی علامات اب تک سامنے آچکی ہیں؟

عالمی کورونا وبا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماری ‘کووڈ19’ سے متعلق نئی طبی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اب تک اس مرض کی 200 کے قریب علامات سامنے آچکی ہیں جو لانگ کووڈ مریضوں میں پائی جاتی ہیں۔

اس مہلک وائرس کی علامات وائرس لگنے کے بعد جبکہ بعض کیسز میں صحت یابی کے بعد بھی برقرار رہتی ہیں، ایسی علامات کو لانگ کووڈ کہا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر 10 میں سے ایک یا 3 میں سے ایک مریض کو کووڈ 19 کو شکست دینے کے بعد لانگ کووڈ کا سامنا ہوتا ہے۔

اسی ضمن میں بڑی بین الاقوامی تحقیق میں لانگ کووڈ سے متاثر افراد میں 200 سے زیادہ علامات کو شناخت کیا گیا ہے جو لانگ کووڈ کے شکار مریضوں کے جسم کے 10 جسمانی اعضا کے نظاموں تک پھیلی ہوتی ہیں، اور ایک تہائی علامات مریضوں کو کم از کم 6 ماہ تک متاثر کرتی ہیں۔

مشاہدے میں شامل لندن کالج یونیورسٹی کی ایتھینا اکرمی کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں متعدد طبی مراکز میں کورونا کو شکست دینے والے افراد میں نظام تنفس کی بحالی پر توجہ دی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ متعدد افراد کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے، مگر انہیں متعدد دیگر مسائل اور ایسی علامات کا سامنا بھی ہوسکتا ہے اور طبی مراکز کو اس حوالے سے زیادہ بہتر حکمت عملی اختیار کرنا چاہیے، ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کئی افراد کورونا سے صحت یابی کے بعد علامات کو نظر انداز بھی کررہے ہوں۔

یہ تحقیق لانسیٹ کے جریدے جرنل ای کلینیکل میڈیسین میں شائع ہوئی ہے جس میں 56 ممالک سے تعلق رکھنے والے 3762 افراد میں لانگ کووڈ کی تصدیق ہوئی، مذکورہ افراد تحقیق میں شامل کیے گئے، مشاہدے کے دوران 203 علامات کی شناخت ہوئی جن میں سے 66 کو 7 ماہ تک ٹریک کیا گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ عام ترین علامات میں تھکاوٹ، جسمانی یاذہنی تناوٌ پر طبیعت بگڑنے کا احساس اور ذہنی دھند قابل ذکر ہیں جبکہ دیگر علامات میں بصری واہمے، کپکپی، جلد پر خارش، خواتین کے مخصوص ایام میں تبدیلیاں، جنسی صلاحیت متاثر ہونا، دل کی دھڑکن تیز ہونا اور مثانے کو کنٹرول کرنے کے مسائل سمیت دیگر کو دریافت کیا گیا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تحقیق پر کام کرکے مزید تنائج اور مسائل کا ممکنہ حل نکالا جاسکتا ہے۔

Comments