خاتون کی جنس تبدیل نہیں ہوگی ابوظہبی کی عدالت میں دائر کردہ درخواست مسترد

ابوظہی(مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات کی عدالت نے درخواست دہندہ ایک خاتون کی جنس تبدیلی کی درخواست کو مسترد کردیاہے ۔ خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ابوظہبی کی ایک عدالت میں ایک خاتون نے جنس کی تبدیلی یعنی عورت سے مرد بننے کیلئے قانونی اجازت کی درخواست دائر کی تھی ۔25 سالہ خاتون نے اپنی جنس کو تبدیل کرنے اور سرکاری کاغذات میں زنانہ نام کی جائے مردانہ نام درج کرانے کیلئے درخواست دائر کی تھی جس میں خاتون نے موقف اپناتے ہوئے استدعا کی کہ وہ بیرون ملک جاکر اپنی جنسی تبدیلی کرانا چاہتی ہے ۔عدالت نے اس خاتون کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے خارج کر دی ہے،جس کے بعد خاتون نے فیصلے کو اپیلٹ کورٹ میں چیلنج کردیاہے جہاں اس کی درخواست زیر سماعت ہے۔ خاتون کے وکیل علی عبداللہ نے اپنے دللائل پیش کئے اور کہا کہ پہلی عدالت نے اس کی موکلہ کیلئے اس تبدیلی کیلئے اہل قرار دیا تھا جبکہ اس رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ خاتون کو ایسے جنسی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن کوبعد میں کسی بھی طرح سے ٹھیک نہیں کیا جاسکتا جبکہ اس رپورٹ میں جنس کی تبدیلی کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا تھا۔وکیل نے وفاقی قانون 2016 ءکی شق4 کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ اس شق کے تحت جس شخص کی جنس واضح نہ ہو اس کی جنس کو تبدیل کیا جانا جائز ہے۔