دنیا کے امیر ترین شخص صرف 10 منٹ 10 سیکنڈز میں خلا کا چکر لگاکر آگئے

دنیا کے امیر ترین شخص اور آن لائن کاروبار کی معروف کمپنی ایمازون کے بانی جیف بیزوس خلا کا اپنا پہلا سفر مکمل کرکے واپس آگئے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق یہ تاریخی سفر خلا میں کمرشل پروازوں کی جانب  اہم  قدم ہے  اور یہ سفر  ایمازون ہی کی زیر ملکیت ایرو اسپیس کمپنی ’بلیو اوریجن‘ کے تیار کردہ خلائی جہاز ’نیو شیپرڈ‘ میں کیا گیا۔

خیال رہے کہ جیف بیزوس نے 2 ہفتے قبل ہی  ایمازون کی سربراہی سے استعفیٰ دیا تھا تاکہ وہ بلیو اوریجن اور اپنے دیگر منصوبوں پر توجہ دے سکیں۔

یہ بھی پڑھیں

اس سفر میں جیف بیزوس کے ہمراہ ان کے بھائی مارک بیزوس، خلائی سفر کی دوڑ کی بانیوں میں سے ایک 82 سالہ معمر خاتون خلا باز ویلی فنک اور ایک 18 سالہ طالب علم اولیور ڈیمین شامل تھے۔

اس سفر کے بعد اولیور خلا کا سفر کرنے والے کم عمر ترین شخص اور ویلی فنک معمر ترین خاتون بن گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ تاریخی خلائی سفر صرف 10 منٹ اور 10 سیکنڈز پر مشتمل تھا جس میں چار خلابازوں نے خلائی جہاز میں موجود بڑی شیشے کی کھڑکیوں سے خلا اور زمین کا خوبصورت نظارہ کیا۔

خلائی جہاز امریکی ریاست ٹیکساس کے قصبے وین ہارن میں ایک نجی سائٹ سے روانہ ہوا،  سفر کے آغاز کے 2 منٹ بعد خلائی کیپسول اپنے راکٹ سے جدا ہوگیا اور زمین سے 100کلو میٹر  اوپر ماہرین کی وضع کردہ خلائی حدود  ‘کرمان لائن’ کی جانب رواں دواں ہوگیا۔

اس سفر میں چاروں خلا بازوں کو تقریباً 4 منٹ تک کشش ثقل کی کمی کے باعث بے وزنی کی کیفیت کا سامنا رہا جس کے دوران وہ اپنی نشستوں کی بیلٹ کھول کر جہاز میں تیر کرباہر کا نظارہ کرسکے۔

جب جہاز نے کرمان لائن کو کراس کیا تو تمام مسافروں نے خوشی کا اظہار کیا اور نعرے لگائے، خلائی جہاز 107 کلومیٹر کی بلندی تک گیا جس کے بعد وہ ایک صحرائی علاقے میں واپس زمین پر آگیا اور چاروں مسافر  بحفاظت زمین پر واپس اتر گئے۔

زمین پر پہنچنے کے فوری بعد جیف بیزوس کا کہنا تھا کہ ‘میں ناقابل یقین حد تک ٹھیک ہوں’ اور یہ ‘خلا باز بیزوس’ کا بہترین دن تھا۔

خیال رہے کہ بلیو اوریجن کمپنی کی  خلا تک یہ پہلی انسانی پرواز تھی ، اس سے قبل 11 جولائی کو ارب پتی برطانوی تاجر رچرڈ برنیسن  تین دیگر مسافروں اور  دو پائلٹس کے ہمراہ  خلائی سفر کے بعد زمین پر واپس آئے تھے،  ورنہ اس سے قبل صرف پروفیشنل خلا باز ہی خلا میں جاتے رہے ہیں۔

بلیو اوریجن کمپنی کی جانب سے اس مشن کا مقصد تیزی سے ابھرتی خلائی سیاحت میں سبقت حاصل کرنا تھا اور توقع ہےکہ یہ سفر خلائی سیاحت کی حوصلہ افزائی کا باعث ہوگا۔