سوئیڈن کی جھیل سے 8 سالہ بچی کو ہزاروں برس قدیم تلوار مل گئی

ساگا وینیسک نامی 8 سالہ لڑکی اپنے والدین کے ساتھ سوئیڈن میں چھٹیاں گزارنے کے لیے موجود تھی—.فوٹو بشکریہ ڈیلی میل

سوئیڈن کی خوبصورت ویڈوسٹرن جھیل سے لڑکی کو ہزاروں سال پرانی تلوار مل گئی جسے میوزیم کی زینت بنادیا گیا۔

ساگا وینیسک نامی 8 سالہ لڑکی اپنے والدین کے ساتھ سوئیڈن میں چھٹیاں گزارنے کے لیے موجود تھی جہاں ویڈوسٹرن جھیل کی سیر کے موقع پر اس نے تیراکی کی جس دوران اس کے ہاتھوں قدیم تلوار لگ گئی جو اس نے اپنے والدین کے حوالے کی۔

ساگا نے اس حوالے سے مقامی ریڈیو کو بتایا کہ ’جب وہ تیر رہی تھی اس وقت پانی کا بہاؤ کافی نیچے تھا، اسے پانی میں کچھ محسوس ہوا جسے کھینچنے پر ہینڈل کی طرح کی چیز محسوس ہوئی‘۔

ویڈوسٹرن جھیل سے ملنے والی ہزار سالہ قدیم تلوار—.فوٹو بشکریہ ڈیلی میل

ساگا نے بتایا کہ ’اس نے اس بارے میں اپنے والد کو آگاہ کیا تو انہیں ابتدا میں یہ کوئی ڈنڈی کا پیڑ کی جڑ لگی تاہم بعد ازاں اس کو مقامی میوزیم کے حوالے کردیا جہاں اسے ہزار سالہ قدیم تلوار قرار دیا‘۔

میوزیم کے ماہرین کے مطابق تلوار صرف ہزار برس پرانی نہیں بلکہ 15 ہزار برس قدیم ہے یعنی ممکن طور پر اس کا شمار چوتھی یا پانچویں صدی میں ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اس جھیل سے اتنی قدیم تلوار کا ملنا اس بات کی نشاندہی ہے کہ یہ ایک تاریخی جھیل ہے ممکنہ طور پر ادھر سے مزید آثار قدیمہ مل سکتے ہیں۔