شاپنگ کیلئے پیسے بچانے کی غرض سے مسلسل نوڈلز کھانے والی طالبہ اسپتال پہنچ گئی

چینی طالبہ کو سیل سے شاپنگ کے لیے پیسے بچانا اسپتال لے گیا—.اسکرین گریب

یوں تو نوڈلز پکانے میں آسان ہوتے ہیں، ان سے پیٹ بھی بھر جاتا ہے اور مزید بھوک کی گنجائش بھی نہیں رہتی لیکن مسلسل نوڈلز ہی کھاتے رہنا مضر صحت بھی ثابت ہوجاتا ہے۔

متاثرہ چینی طالبہ ہانگ جیا بیماری کی حالت میں—.اسکرین گریب

یہی وجہ ہے کہ ہانگ جیا کے جمع کیے گئے سارے پیسے اسپتال کے اخراجات میں خرچ ہوگئے۔

انہوں نے 15 اکتوبر سے 3 ہفتے تک نوڈلز کھا کر 749 یوان یعنی 14 ہزار 517 روپے سے زائد جمع کیے، جسے وہ 11 نومبر کی سیل میں استعمال کر کے خریداری کرنا چاہتی تھیں لیکن نوڈلز کھانے سے ان کی صحت ایسی متاثر ہوئی کہ وہ اسپتال پہنچ گئیں اور سارے پیسے علاج پر خرچ ہوگئے۔

مقامی میڈیا سے گفتگو میں ہانگ جیا کا کہنا تھا کہ انہوں نے شاپنگ کے لیے 749 یوان جمع کیے تھے جبکہ ادویات اور آئی وی ڈرپ میں 100 یوان خرچ ہوچکے ہیں جس پر انہیں بے حد افسوس ہے۔ 

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہانگ جیا نوڈلز کے ہر فلیور کی خریداری کر رہی ہیں اور بعدازاں صحت متاثر ہونے کے بعد ادویات استعمال کر رہی ہیں۔