‘عزیر بلوچ کے سرکی قیمت کیوں ختم کی گئی؟ اس سے بھتے کون لیتاتھا؟’

سنا تھا کہ عزیر بلوچ بھتےلیتا ہے لیکن کیاکوئی عزیربلوچ سے بھی بھتہ لے سکتاتھا؟ڈاکٹر فہمیدہ مرزا،فوٹو:فائل

وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے مطالبہ کیا ہے کہ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ عدالت میں لائی جانی چاہیے۔

جیو نیوز کے پروگرام’ آج شاہ زیب خانزادہ کےساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی سابق رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کاکہنا تھا کہ پیپلزپارٹی لیاری سے ہمیشہ جیتتی تھی،2008ء کے الیکشن سے پہلے پیپلزپارٹی لیاری میں بہت تقسیم تھی، بقیہ کراچی میں بھی مختلف سیاسی جماعتیں تقسیم تھیں اور ایک دوسرےسے لڑرہی تھیں۔

سابق وزیرداخلہ سندھ ذوالفقار مرزا کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ میں نےسنا تھا کہ عزیر بلوچ بھتےلیتا ہے لیکن کیاکوئی عزیربلوچ سے بھی بھتہ لے سکتاتھا؟

مزید پڑھیں

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ کو عدالت میں لایاجائے اور سوالات پوچھے جائیں، پوچھا جائے کہ عزیر بلوچ کے سرکی قیمت کیوں ختم کی گئی؟ یہ بھی پوچھا جائے عزیر سے بھتے کون لیتا تھا ؟ 

ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار مرزا نے اپنی فیملی کو خطرے میں ڈالا،ہماری فیملی نے کھویا ہے، پایا کچھ نہیں ہے،کراچی اور سندھ میں جو بھی واقعات ہوتے تھے ذوالفقار مرزا اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے، جیو نیوز کے رپورٹر ولی بابر تو کسی سیاسی جماعت کےنہیں تھے، ان کےلیے ذوالفقارمرزانےکیوں آوازاٹھائی؟

آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور سے متلعق  فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ فریال تالپور کو کیا ضرورت پیش آئی کہ وہ عزیربلوچ کےگھر چلی گئیں؟

فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ سیاست میں مجھے بینظیر بھٹو لے کر آئی تھیں،مجھے بےنظیر بھٹو نے ٹکٹ دیا اور جب مجھے اسپیکرقومی اسمبلی کی پیشکش ہوئی تو میں نے اس وقت بھی انکار کیاتھا۔

خیال رہے کہ  گذشتہ دنوں سندھ حکومت نےعزیر بلوچ، نثار مورائی اور سانحہ بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹس جاری کیں تھیں جن میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں تاہم  وفاقی وزیر علی زیدی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی عزیر بلوچ سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ نامکمل ہے۔

 وفاقی وزیر نے چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کی ہےکہ وہ ملک کے سب سے بڑے شہرمیں جوقتل وغارت ہوئی اس پر 184 تھری کے تحت ازخود نوٹس لیں۔