عمران خان سے گزارش کی ہے کہ میر شکیل الرحمٰن کو رہا کر دیں، شیخ رشید

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان سے گزارش کی ہے کہ ایڈیٹر  اِن چیف جنگ اور جیو گروپ میر شکیل الرحمان کو رہا کر دیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ وہ یہی گزارش ٹی وی کے ذریعے قومی احتساب بیورو (نیب) سے بھی کر رہے ہیں۔

یہ بات انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ‘نیا پاکستان’ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ شیخ رشید کا تفصیلی انٹرویو جمعے کی شب 8 بجے نشر کیاجائے گا۔

میر شکیل الرحمان کے کیس کا پس منظر

میر شکیل الرحمان نے 1986 میں لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں 54 کنال پرائیویٹ پراپرٹی خریدی، اس خریداری کو جواز بنا کر قومی احتساب بیورو (نیب) نے انہیں 5 مارچ کو طلب کیا، میرشکیل الرحمان نے اراضی کی تمام دستاویزات پیش کیں اور اپنا بیان بھی ریکارڈ کروایا۔

نیب نے 12 مارچ کو دوبارہ بلایا، میر شکیل انکوائری کے لیے پیش ہوئے تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق اراضی کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے دوران اُن کی گرفتاری بلا جواز تھی کیونکہ نیب کا قانون کسی بزنس مین کی دوران انکوائری گرفتاری کی اجازت نہیں دیتا۔

لاہور ہائیکورٹ میں دو درخواستیں، ایک ان کی ضمانت اور دوسری بریت کے لیے دائرکی گئیں، عدالت نے وہ درخواستیں خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ مناسب وقت پر اسی عدالت سے دوبارہ رجوع کر سکتے ہیں۔