قانون، قانون ہوتا ہے چاہے عجیب ہی کیوں نہ ہو!

قانون کسی بھی معاشرے کا اہم ستون ہوتا ہے۔ دنیا کے نقشے پر موجود تمام ہی ممالک میں قوانین موجود ہیں جن کی پاسداری ضروری ہوتی ہے تاہم بعض ممالک میں کچھ ایسے انوکھے قوانین بھی نافذ ہیں جو شاید وہاں کے مقامی لوگوں کے لیے چونکا دینے والے نہ ہوں لیکن جب دوسرے ملکوں کے لوگوں کو  ان کے بارے میں معلوم ہوتا ہے تو وہ حیرت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

ذیل میں دنیا کے مختلف ممالک میں لاگو ایسے انوکھے قوانین کے بارے میں بتایا جارہا ہے جو آپ کو حیران کر دیں گے۔

سنگاپور

فوٹو/ بشکریہ پنٹرسٹ—۔

اگر آپ نے سنگاپور جانے کا ارادہ باندھا ہے تو ممنوعہ اشیاء کی ایک لمبی فہرست ہے جنہیں آپ اپنے ساتھ نہیں لے کر جا سکتے۔ ان اشیاء میں سے ایک ‘چیونگم’ بھی ہے۔ 

جی ہاں چیونگم کو سنگاپور میں درآمد کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ پابندی عوامی مقامات کو صاف رکھنے کے لیے لگائی گئی ہے۔ ہاں، دانتوں کے کسی مسئلے یا نِکوٹین گم کے استعمال میں رعایت ہے۔

اٹلی 

فوٹو/بشکریہ شٹر اسٹاک—۔

اٹلی کے شہر وینس میں کبوتروں کو دانہ ڈالنے والے کو 700 ڈالر کا جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ وینس کے مشہور سیاحتی مقام سینٹ مارک اسکوائر پر کبوتروں کو دانہ ڈالنا قانوناً جرم ہے۔

واضح رہے کہ پرندوں کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار دے کر یادگاروں کو گندہ ہونے سے بچانے کیلئے اس اقدام پر پابندی لگائی گئی ہے۔

کینیڈا

فوٹو/ بشکریہ شٹر اسٹاک—۔

کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر پیٹرولیا میں ‘آواز’ کی ایک حد مقرر ہے۔

اس قانون کے تحت چیخ وپکار، چلانا، سیٹی بجانا یا اونچی آواز میں گانا گانے پر پابندی عائد ہے۔

جارجیا،امریکا

فوٹو/ بشکریہ شٹر اسٹاک—۔

امریکی ریاست جارجیا کے شہر کوئٹ مین میں اگر آپ کے پاس مرغیاں ہیں تو ہوشیار رہیے کہ کہیں آپ کی مرغیاں سڑک نہ پار کر جائیں۔کیوںکہ کوئٹ مین میں مرغیوں کے سڑک پار کرنے پر پابندی عائد ہے۔

اس قانون کا مقصد صاف ظاہر ہے کہ مالکان مرغیوں کو ہر وقت اپنے قابو میں رکھیں، ورنہ جرمانے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

یونان

فوٹو/ بشکریہ شٹر اسٹاک—۔

اگر خواتین یونان جا کر تاریخی مقامات دیکھنا چاہتی ہیں تو اپنے ہیل والے جوتے ساتھ لے کر نہ جائیں۔

یونان میں اونچی ہیل پہننا اس لیے منع ہے کہ اونچی ہیل ان تاریخی مقامات کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور اس سے ان مقامات کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کو خطرہ رہتا ہے۔

جرمنی 

فوٹو/ بشکریہ شٹر اسٹاک—۔

جرمنی کی سب سے بڑی شاہراہ جسے شاہرائے اعظم بھی کہا جاتا ہے، یقیناً اس پر گاڑی چلانا ایک الگ ہی تجربہ ہوتا ہوگا، لیکن یہ تجربہ اُس وقت برباد ہو جاتا ہے جب اچانک سے گاڑی کا ایندھن ختم ہو جائے، کیونکہ موٹروے پر گیس کا ختم ہو جانا جرمانے کا سبب بنتا ہے، لہذا اس سفر سے قبل مکمل منصوبہ بندی نہایت ضروری ہے۔

ڈنمارک 

فوٹو/ بشکریہ پنٹرسٹ—۔

ڈنمارک کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں بچوں کا نام رکھنے کے لیے رہنما اصول موجود ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اگر آپ اپنے بچے کا نام منظور شدہ 7000 ناموں کے علاوہ رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے حکومت سے خصوصی اجازت درکار ہوگی۔

آسٹریلیا

فوٹو/ بشکریہ پنٹرسٹ—۔

مغربی آسٹریلیا کے رہائشی ایک وقت میں قانوناً 50 کلو سے زیا دہ آلو نہیں رکھ سکتے۔ اس قانون کا مقصد درآمدات کو ان کی حد میں رکھنا ہے۔

اس قانون کے تحت آلو کی مارکیٹنگ کارپوریشن آپ کی کار کو روک کر تلاشی لینے کی مجاز ہے۔

اسکاٹ لینڈ 

فوٹو/ بشکریہ پنٹرسٹ—۔

اسکاٹ لینڈ میں اگر کوئی آپ کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹکا کر ٹوائلٹ استعمال کرنے کی اجا زت مانگتا ہے تو قانون کے تحت آپ اسے منع نہیں کرسکتے۔

سموآ

فوٹو/ بشکریہ پنٹرسٹ—۔

دور دراز کے جزیرے سموآ میں قانون بہت دور کی کوڑی لایا، یہاں آپ اپنی سالگرہ بےشک بھول جائیں لیکن خبردار جو بیگم کی سالگرہ بھولے۔ سموآ میں بیگم کی سالگرہ بھول جانا قانوناً جرم ہے۔ 

روم

فوٹو/ بشکریہ پنٹرسٹ—۔

کہتے ہیں کہ اطالوی دارالحکومت روم میں وہ کرو جو رومی کرتے ہیں۔ یہاں آپ بے شک خوب گھومیں پھریں لیکن یاد رکھیے کہ روم میں پیالے میں گولڈ فش رکھنا قانوناً جرم ہے۔ پیالے میں گولڈ فش رکھنا انسان کے لیے تفریح کا باعث ہو سکتا ہے لیکن روم میں اسے جانوروں کے حقوق کی پامالی تصور کیا جاتا ہے۔

ادھر سوئٹزرلینڈ میں بھی کچھ ایسا ہی ہے لیکن سوئس حکومت کے قانون میں گولڈ فش کو سماجی مخلوق مانا جاتا ہے اس لیے ایک پیالے میں ایک گولڈ فش کی بجائے دو یا دو سے زائد مچھلیوں کو رکھنا ضروری ہے ورنہ آپ کو جرمانہ ہوسکتا ہے۔

جاپان

فوٹو/ بشکریہ پنٹرسٹ—۔

تمام دنیا میں وزن کم کرنے پر مشورے، نصیحتیں، آزمائشیں اور تبصرے ہوتے رہتے ہیں لیکن جاپان نے وزن کے لیے قانون بنا کر مسئلہ ہی حل کر دیا۔ جاپان میں موٹا ہونا غیر قانونی ہے۔ 

جاپان میں مرد کے لیے کمر کے سائز کی حد 33.5 انچ  اور عورت کے لیے 35 انچ مقرر ہے۔لیں حد طے ہوگئی، اب کچھ بھی کرکے اسی حد میں رہنا ہے یعنی اسمارٹ۔

امریکا

فوٹو/ بشکریہ پنٹرسٹ—۔

آپ شادی شدہ ہیں، ایک خاتون ہیں، اسکائی ڈائیونگ کرنا پسند کرتی ہیں اور امریکی ریاست فلوریڈا میں رہتی ہیں تو آپ اتوار کو اسکائی ڈائیونگ کے لیے نہیں جاسکتیں۔

امریکی ریاست فلوریڈا میں شادی شدہ خاتون پر اتوار کے دن اسکائی ڈائیونگ پر پابندی عائد ہے اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ، گرفتاری اور قید بھی ہو سکتی ہے۔

اٹلی 

فوٹو/ بشکریہ پنٹرسٹ—۔

اراکلیا، اٹلی میں آپ سمندر کنارے گھوم سکتے ہیں، کھا پی سکتے ہیں، سمندر کے نظارے کرسکتے ہیں، اپنے بچوں کے ساتھ خوب لطف اندوز بھی ہوسکتے ہیں لیکن اپنے بچوں کے ساتھ مل کر سمندری ریت سے گھروندے نہیں بنا سکتے۔ اٹلی میں ساحل سمندر پر ریت کے گھروندے بنانا جرم ہے۔

کیلی فورنیا

فوٹو/ بشکریہ پنٹرسٹ—۔

اگر آپ چمڑے کے بنے ہوئے کاؤ بوائے شوز پہننے کے شوقین ہیں تو پھر آپ کہیں بھی انہیں پہن کر اپنا شوق پورا کر سکتے ہیں لیکن خبردار اپنا شوق امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر بلیتھ میں جا کر ہرگز پورا کرنے کا مت سوچیے گا۔

بلیتھ میں کاؤ بوائے شوز پہننے کے لیے آپ کا جانوروں کے ریوڑ کا مالک ہونا بھی ضروری ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ قانون بھی شہر میں رائج ہے۔

برٹش کولمبیا

فوٹو/ بشکریہ پنٹرسٹ—۔

کولمبیا میں بِگ فٹ کو مارنا قانوناً جرم ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بِگ فُٹ کوصرف ایک وہم یا دیومالائی کردار مانا جاتا ہے۔لیکن اب وہم کا علاج تو ہے نہیں لیکن اس کے لیے قانون ضرور موجود ہے۔

بھوٹان

فوٹو/ بشکریہ پنٹرسٹ—۔

بھوٹان حکومت نے صاف ستھری ہوا کی اہیمت کو سمجھتے ہوئے ایک قانون ایسا بھی بنایا ہے، جس کے تحت بھوٹان میں صرف تمباکو ہی نہیں بلکہ تمباکو کی مصنوعات ملک میں لانے اور ان کے استعمال پر بھی پابندی ہے۔اس قانون کا شمار تمباکو کے خلاف دنیا کے سخت ترین قوانین میں ہوتا ہے۔