کرپشن کا ڈھب پرانا

وزیراعظم پاکستان عمران خان—فوٹو فائل

پرانے پاکستان کی لغت کے مطابق سرکاری خزانے میں خوردبرد یا لوٹ مار کو کرپشن سمجھا جاتا تھا۔ وزیر اور مشیر بڑے منصوبوں کا ٹھیکہ دیتے وقت مال بنایا کرتے تھے جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ نوکریاں دیتے ہوئے یا پھر ترقیوں اور تبادلوں کے وقت تھوڑا بہت کما لیا کرتے تھے۔

عام آدمی کا فہم یہی تھا کہ اگر کسی ترقیاتی منصوبے کی مد میں جاری ہونے والے فنڈز میں سے کچھ رقم بچا کر اپنی جیب میں ڈال لی جاتی ہے تو یہ کرپشن ہے مگر پھر کپتان کی محنت رنگ لائی اور لوگ اس بات پر ایمان لانے لگے کہ کرپشن صرف کمیشن کھانے کا نام نہیں ہے بلکہ سیاست میں رہتے ہوئے مال بنانے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔

کپتان نے بتایا کہ ہالینڈ کا وزیراعظم بائیسکل پر دفتر جاتا ہے لیکن اگر پاکستان جیسے غریب ملک کا وزیراعظم جہاز میں سفر کرتا ہے، مہنگے ہوٹلوں میں قیام کرتا ہے، اُس کے پروٹوکول اور سیکیورٹی پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں تو یہ بھی کرپشن ہے۔

کپتان نے سمجھایا کہ سیاستدان اپنے اقتدار اور اختیار کے ذریعے کس طرح ترقی کرتے ہیں اور اپنے اثاثہ جات بڑھاتے ہیں۔ کپتان نے بتایا کہ جب کوئی حکومت میں رہتے ہوئے کاروبار کرتا ہے تو اس سے مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے اور کارٹل بنتے ہیں، سرمایہ دار گٹھ جوڑ کرکے اپنی اجارہ داری قائم کر لیتے ہیں، قانون ساز وہی پالیسیاں بناتے ہیں جن سے انہیں فائدہ ہوتا ہے۔

کپتان کی تان ہر بار ہی اس جملے پر ٹوٹا کرتی کہ جو لوگ سیاست میں آکر عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، انہیں کسی قسم کا بزنس نہیں کرنا چاہئے۔ کپتان کے مطابق ان کرپٹ سیاستدانوں کو جو لوگ سیاسی رشوت کے طور پر پیسہ دیتے ہیں، یہ حکومت میں آنے کے بعد انہیں ٹھیکے دیتے ہیں اور وہ اپنی سرمایہ کاری بمع سود وصول کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کپتان کی بات میں دم تھا اور نہ بھی ہوتا تو کپتان کا اندازِ بیاں ایسا تھا کہ سننے والوں پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی۔ لوگ باشعور ہوتے گئے تو انہیں سمجھ آتی گئی کہ کسی وزیر کی اپنی نجی ائیر لائن ہوگی تو پی آئی اے کیسے ترقی کرے گی؟

اگر گڈز ٹرانسپورٹ یا ٹرالر ایسوسی ایشن کے سربراہ کو وزیر ٹرانسپورٹ بنا دیا جائے گا تو پبلک ٹرانسپورٹ خسارے میں ہی رہے گی۔ زراعت سے وابستہ افراد ہی ملک کی زرعی پالیسیوں کا تعین کریں گے تو یہ دودھ کی رکھوالی پر بلے کو مامور کرنے والی بات ہوگی۔

اگر کسی ایسے شخص کو چیئرمین ایف بی آر بنا دیا جائے گا جو اپنی فرم کے ذریعے کاروباری افراد کو ٹیکس بچانے کے طریقے بتاتا رہا یا پھر ان کی وکالت کرتا رہا تو پھر محصولات میں اضافہ ہرگز نہیں ہوگا۔ کپتان کی یہ گردان دیکھتے ہی دیکھتے عوام میں مقبول ہوگئی کہ اس ملک کو بچانا ہے تو کرپشن کے سیلاب بلا کے آگے بند باندھنا ہوگا۔

کپتان نے اپنی تقریروں میں یومیہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے جو اعداد و شمار پیش کئے کسی نے ان کی تصدیق کر نے کی زحمت بھی نہ کی اور یوں یہ فِگرز زبان زدعام ہو گئے۔

کپتان کے مخالفین کرپشن کے اس بیانیے کے مقابل مزاحمت نہ کرسکے اور ڈھیر ہو گئے۔ سیاسی مخالفین نے کپتان سے انتقام لینے اور اسے بےنقاب کرنے کی غرض سے اسے بااختیار بنانے کی سازش رچائی یا جانے کیا ہوا کہ عنانِ اقتدار کپتان کے سپردکردی گئی۔

ممکن ہے یہ لوگ امریکی صدر ابراہم لنکن کے اس قول سے متاثر ہوں کہ کسی شخص کے کردار کو بےنقاب کرنے کا یقینی طریقہ اس سے دشمنی پیدا کرنا نہیں بلکہ اسے بااختیار بنانا ہے۔ بہرحال کرپشن کے علم بردار کپتان کی حکومت آئی تو نیا جال لائے پرانے شکاریوں نے پھر سے مال بنانا شروع کردیا۔

وہ لوگ جو ’’اے ٹی ایم‘‘ کے نام سے مشہور تھے، وہ اپنا پیسہ منافع کی بھاری شرح پر وصول کرنے لگے۔

مفادات کے ٹکراؤ کا پہلا مظاہرہ تب دیکھنے کو ملا جب وزیراعظم کے ایک مشیر کی ایک کمپنی کو مہمند ڈیم کا ٹھیکہ دیدیا گیا۔ اس طرح کی چند مزید خبریں بھی آئیں مگر تبدیلی کے سحر میں مبتلا عوام نے انہیں درخور اعتنا نہ سمجھا کیونکہ کپتان نے نصیحت کی تھی کہ گھبرانا نہیں ہے۔ مہنگائی کے ریلے نے سیلاب بلا کی شکل اختیار کرلی۔

کرپٹوں کی چیخیں تو نہ نکلیں البتہ عوام بلبلانے لگے کیونکہ بات پیٹرول، گیس اور بجلی تک محدود ہوتی تو یہ سوچ کر برداشت کرلی جاتی کہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بڑھ جانے سے یہ افتاد آن پڑی ہے مگر بنیادی ضرورت کی اشیا پہنچ میں نہ رہیں۔

پہلے ٹماٹر کے نرخ آسمانوں سے باتیں کرنے لگے، کچھ عرصہ بعد چینی کی قیمت بڑھی اور پھر آٹے کے بحران نے سر اُٹھا لیا۔ آٹا جو لگ بھگ ایک سال پہلے 40روپے کلو تھا اب 70روپے کلو فروخت ہو رہا ہے، چینی جو 54روپے کلو تھی اب 80روپے کلو ہو چکی ہے۔ ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ ایک سال میں نہ تو کسی قسم کی خشک سالی ہوئی۔

نہ ہی گندم اور گنے کی قلت کا سامنا کرنا پڑا، تو یہ نرخ کیسے بڑھ گئے؟ آٹے اور چینی کے مصنوعی بحران سے اربوں روپے کا جو ڈاکہ ڈالا گیا ہے اس کا فائدہ کون اُٹھاتاہے؟

کپتان کا فرمانِ عالیشان تو یہی ہے کہ مہنگائی مافیا کیخلاف کارروائی ہوگی مگر کیسے؟ حقائق بتاتے ہیں کہ چینی کی مجموعی پیداوار میں 22فیصد حصہ اس اہم شخصیت کا ہے جنہیں کپتان کےقریب سمجھا جاتا ہے۔

تکلف برطرف، میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ کپتان کے جن دوستوں نے ان کے حالیہ غیر ملکی دورے کے اخراجات اُٹھائے ہیں، ان کی عام آدمی کو کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

کپتان نے گھبراہٹ کے عالم میں کہہ دیا ہے کہ لوگ اخبار نہ پڑھیں اور نیوز چینل نہ دیکھیں مگر کپتان کی پرانی تقریروں کا کیا کیا جائے؟