انٹارکٹیکا میں برف پگھلنے کی رفتار میں حیران کن اضافہ

برفانی خطہ انٹارکٹیکا حیران کن تیز رفتاری سے پگھل رہا ہے اور سن 1992 سے اب تک وہاں سے تین ٹریلین ٹن برف پگھل چکی ہے۔

اس بات کا انكشاف سائنس دانوں کی ایک عالمی ٹیم نے کیا ہے جس نے کرہ راض کے انتہائی جنوبی براعظم پر گلوبل وارمنگ کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیق میں حصہ لیا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سن 1992 سے 2011 تک، انٹارکٹیکا میں ہر سال 76 بلین ٹن برف پگھل رہی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ سن 2012 کے بعد سے اب سالانہ 219 بلین ٹن برف پگھل رہی ہے۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے ایک سائنس دان اروین اسابیلا کا جو اس 88 رکنی مطالعاتی ٹیم کا حصہ ہیں کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ اب ہمیں فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ برف پگھلنے کی رفتار اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی کہ ہم توقع کر رہے تھے۔

برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی کے سائنس دان اور تحقیقی مسودہ لکھنے والے گروپ کے قائد اینڈریو شیپرڈ نے کہا ہے کہ یہ چیز خارج از امکان نہیں ہے کہ صرف انٹارکٹیکا کے پگھنے سے سمندر میں پانی کی سطح مزید 16 سینٹی میٹر بلند ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ عام حالات میں ہم یہ توقع نہیں کرتے کہ برف کی پوری تہہ غائب ہو جائے، لیکن یہاں جو کچھ ہو رہا ہے کہ اس کی وجہ سوائے گلوبل وارمنگ کے کوئی اور نہیں ہو سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ جنوبی براعظم ہواؤں کا رخ بدلنے سے متاثر ہو رہا ہے، جن کا تعلق گلوبل وارمنگ سے ہےاور گلوبل وارمنگ کا سبب کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس کا جلایا جانا ہے۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن کے سائنس دان آئن ہو گن کا کہنا ہے کہ جہاں تک انٹارکٹیکا کے مغربی حصے کا تعلق ہے تو وہ لگ بھگ 70 فی صد تک پگھل چکا ہے۔ یہ ایک طرح سے تباہی کا عمل ہے۔

امریکی خلائی ادارے کے ایک سائنس دان اور تحقیق کے شریک مصنف ایرک ریگناٹ نے کہا ہے کہ اب ہمارے پاس ایک واضح تصویر ہے کہ انٹارکٹیکا میں کیا ہو رہا ہے۔ ہم ان نتائج کو خطرے کی ایک گھنٹی کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو اس جانب اشارہ ہے کہ ہم اپنی زمین کا درجہ حرارت بڑھنے کے عمل کو روکنے کے لیے سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

سائنس دانوں نے اپنی تحقیق کے لیے دو عشروں کے دوران سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاوير کا بھی جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ انٹارکٹیکا میں کتنی برف پگھل چکی ہے۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے۔