ایم آر آئی، مرض کی تشخیص کا ایک حیرت انگیز ذریعہ

ایم آر آئی یعنی میگنیٹک ریزو نینس امیج کا طریق کار مختلف امراض کا پتہ چلانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں مریض کو ایک ایسی مشین کے اندر لیٹنا ہوتا ہے جہاں سر کے لئے جگہ بہت کم ہوتی ہے۔ یہ طریق کار خاص طور پر ان لوگوں کے لئے دشوار ہے جنہیں تنگ جگہوں پر دشواری ہوتی ہے اور وہ خوف محسوس کرتے ہیں ۔

یونیورسٹی آف مزوری میں تحقیق کار کوشش کر رہے ہیں کہ اس تجربے کو مریضوں اور ڈاکٹروں کے لئے بہتر بنایا جائے۔ وائس آف امریکہ کی کیرل پیرسن کی رپورٹ کے مطابق ایم آر آئی طریق کار سے ڈاکٹروں کو ریڈی ایشن استعمال کئے بغیر کسی بھی زخم یا مرض کو تشخیص کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ایم آر آئی ٹیکنالوجی میں طاقتور مقناطیس, ریڈیائی لہروں اور کمپیوٹر کی مدد سے جسم کی اندرونی تصاویر تفصیلی انداز میں حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ طریق کار خاص طور پر دل کے مریضوں کے لئے اہم ہے۔ ایم آر آئی کی مدد سے ڈاکٹر یہ جانچ کر سکتے ہیں کہ خون کی نالیوں میں کہیں رکاوٹ تو نہیں۔ پھر دل کے دورے کے بعد اس کی مدد سے دل کو پہنچنے والے نقصان کا بھی پتہ چلتا ہے۔

اس طریق کار کا منفی پہلو یہ ہے کہ مریضوں کو دیر تک ایک لمبی سے ٹیوب میں بے حس و حرکت لیٹنا ہوتا ہے اور یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے جنہیں تنگ جگہوں سے وحشت ہوتی ہے۔

یونیورسٹی آف مزوری کے سکول آف میڈیسن میں تحقیق کار ڈاکٹر تالیسا اہلتز کا کہنا ہے کہ یہ طریق کار بعض مریضوں کے لئے بہت مشکل ہو سکتا ہے۔ بہت تھکا سکتا ہے اور اکثر اس کا دورانیہ بھی کافی زیادہ ہوتا ہے۔ ہم اس کے لئے ۹۰ منٹ کا وقت مقرر کرتے ہیں اور اگر کبھی آپ نے ایم آر آئی کرایا ہو تو سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ایک طویل وقت ہے۔

پھر واضح تصاویر حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ بار بار سانس روکیں۔ یونیورسٹی آف مزوری کے سکول آف میڈیسن سے تعلق رکھنے والے رابرٹ تومن بتاتے ہیں کہ عام طور پر ایم آر آئی میں ایک تصویر حاصل کرنے کے لئے کافی وقت درکار ہوتا ہے اور اگر تصویر لینے کے دوران آپ کے جسم میں حرکت ہو تو پھر تصویر دھندلا جاتی ہے۔

تومن اور آلتز ’ھارٹ سپیڈ‘ نامی ایک پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں جس کی مدد سے معلومات کا تجزیہ کرنے والا سوفٹ ویئر ایم آر آئی تصاویر سے حرکت کی معلومات کو خارج کر دیتا ہے ۔ان کے ساتھی سٹیو وان دورن کہتے ہیں کہ ہارٹ سپیڈ کی مدد سے ریڈیو لو جسٹس دل کو اس وقت بھی واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں جب مریض معمول کے مطابق سانس لے رہا ہو۔

وان ڈورن کا کہنا ہے کہ اس سوفٹ ویئر کی مدد سے ہم سانس کی حرکت کو دل کی حرکت سے الگ کر سکتے ہیں اور ہم نے غور کیا کہ ہمیں اس کا اطلاق مریض کی معلومات پر کرنا چاہئے ۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ مریضوں کے لئے اس طریق کار کو آسان کر دیا جائے اور آرام دہ بھی کہ وہ سانس لیتے رہیں اور ایم آر آئی بھی جاری رہےاور سانس روکے بغیر کام کرنے سے اس کا دورانیہ بھی کم ہو جائے گااور 90 منٹ کی بجائے محض 15 سے 30 منٹ ہو سکے گا۔

التز کا کہنا ہے کہ اس سے مریضوں کو فائدہ ہو گا کیونکہ ان کی جانچ کا عمل اسان ہو گیا ہے۔ اور یہ بھی امید ہے کہ ریڈیالوجسٹ اور ماہر امراض قلب کو بھی فائدہ ہو گا کیونکہ تصاویر واضح اور اچھی ہونگی۔

تحقیق کاروں کا اندازہ ہے کہ ’ھارٹ سپیڈ ‘ ٹیکنالوجی آئندہ 5 برسوں میں استعمال کے لئے دستیاب ہو سکے گی۔