جسم عطیہ کرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اعضا عطیہ کرنا اور جسم عطیہ کرنا مختلف باتیں ہیں۔ عطیہ کیے گئے اعضا کسی زخمی یا مریض کے جسم میں لگائے جاتے ہیں۔ عطیہ کیے گئے جسم تحقیق کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

اعضا عطیہ کرنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔ امریکی ادارے میڈکیور کی ڈائریکٹر ہیدی کیسر کہتی ہیں کہ نوے سالہ بزرگ کا دل بیس سالہ نوجوان کے دل سے کسی طرح کم نہیں ہوتا۔

دل کے علاوہ جگر، گردے، پھیپھڑے، آنتیں، تلی، جلد، ہڈیاں، بون میرو اور قرنیہ عطیہ کیا جاسکتا ہے۔ بیشتر اعضا چھ سے بہتر گھنٹوں کے دوران کسی دوسرے کو نہ لگائے جائیں تو استعمال کے قابل نہیں رہتے۔ لیکن چند اعضا کو محفوظ کیا جا سکتا ہے جن میں قرنیہ، جلد، دل کے والو اور ہڈیاں شامل ہیں۔ ایڈز، متحرک کینسر اور منظم انفیکشن کے مریضوں کے عطیات قبول نہیں کیے جاتے۔

بیشتر عطیات انتقال کے بعد لیے جاتے ہیں اور جسم کی ظاہری حالت کو نقصان نہیں پہنچتا۔ اس عمل کا خرچہ عطیہ وصول کرنے والا اٹھاتا ہے۔

ہر طبی ادارہ یا میڈیکل یونیورسٹی جسم کے عطیات وصول نہیں کرتے۔ جو جسم کے عطیات قبول کر سکتے ہیں، وہ عطیہ دینے کے خواہش کا مکمل انٹرویو اور میڈیکل چیک اپ کرتے ہیں۔ پھر اس کی تفصیلات سنبھال کر رکھ دی جاتی ہیں۔

عطیہ دہندہ کے انتقال کے بعد اس کا جسم مرکز پر پہنچایا جاتا ہے۔ اس وقت پھر جانچ پڑتال کی جاتی ہے کہ اب بھی یہ جسم عطیے کے قابل ہے یا نہیں۔ اگر اس قابل ہو تو اسے اس خاص مقصد کے لیے بنائے گئے سردخانے منتقل کردیا جاتا ہے۔

عام طور پر انتقال کے چوبیس گھنٹوں کے اندر تدفین کر دی جاتی ہے۔ لیکن عطیہ کیے گئے جسم کئی سال تک محفوظ رکھے جا سکتے ہیں۔ امریکی ادارے سائنس کیئر میں اوسطاً ہر جسم پر چھ مختلف اقسام کی تحقیق کی جاتی ہے۔

ترقی یافتہ ملکوں میں تحقیق مکمل ہونے کے بعد جسم کی باقیات کو نذر آتش کر دیا جاتا ہے۔ اگر لواحقین خواہش ظاہر کریں تو انھیں باقیات لوٹا دی جاتی ہیں تاکہ وہ انھیں خود سپرد خاک کریں۔

کوئی شخص یہ اصرار نہیں کر سکتا کہ اس کا جسم کسی خاص تحقیق میں استعمال کیا جائے۔ جسم پر تحقیق کا فیصلہ ماہرین اپنی ضرورت کے مطابق کرتے ہیں۔