دنیا میں ہر بیسویں شخص کی موت شراب سے ہوتی ہے

آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ دنیا بھر میں ہر سال مرنے والوں میں سے ہر بیسویں شخص کی ہلاکت کی وجہ شراب نوشی ہوتی ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں ہر سال 30 لاکھ سے زیادہ افراد شراب نوشی کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں اور یہ تعداد ایڈز تشدد اور ٹریفک حادثات میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔

صحت کے عالمی ادارے کے حالیہ رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو شراب کے نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے ہوئے حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں، یا نشے کی حالت میں تشدد پر اتر آتے ہیں اور اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔

تاہم اس فہرست میں ایسے افراد کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے جو شراب نوشی کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شراب یا الکحل کا استعمال 200 سے زیادہ بیماریوں یا صحت کے لیے نقصان دہ حالتوں کا سبب بن سکتا ہے جن میں جگر اور کینسر کی کئی اقسام شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اڈہامون گیبرسس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بہت سے لوگوں اور ان کے خاندانوں اور آبادیوں کو شراب نوشی کے نتیجے میں تشدد، ذہنی بیماریوں، کینسر اور فالج جیسے مسائل اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی 500 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شراب نوشی کے باعث ہلاک ہونے والوں میں تین چوتھائی تعداد مردوں کی ہے جب کہ عورتیں 25 فی صد ہیں۔

رپورٹ کے مطابق شراب نوشی کی لت انسان کو چھوت کی بیماریوں کا آسان ہدف بنا دیتی ہے جن میں تب دق، ایچ آئی وی ایڈز اور نمونیہ شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بیماریوں اور ہلاکتوں کے تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار کا تعلق سن 2016 سے ہے، جس کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ اس سال ہونے والی تمام ہلاکتوں میں سے 5 اعشاریہ 3 فی کا سبب شراب نوشی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کے حوالے سے اعداد و شمار مزید تشویش ناک ہیں کیونکہ شراب نوشی سے منسلک کل ہلاکتوں میں سے ساڑھے 13 فی کا تعلق ایسے افراد سے تھا جن کی عمریں 20 اور 29 سال کے درمیان تھیں۔

رپورٹ میں کئی حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ مثلاً عالمی سطح پر شراب پینے والوں کی تعداد کا أوسط تخمینہ 2 ارب 30 کروڑ ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے 2016 میں کم ازکم ایک بار شراب پی تھی۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ شراب پینے والے یورپ میں ہیں جب کہ امریکہ کا نمبر اس کے بعد آتا ہے۔

تاہم عالمی ادارہ صحت نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ دنیا بھر میں شراب پینے کی مقدار مسلسل کم ہو رہی ہے۔ یورپ میں 2010 کے بعد سے الکحل کے استعمال میں 10 فی صد کمی دیکھی گئی ہے اور 2016 میں یہ مقدار فی فرد 10 لٹر سالانہ تھی۔ جب کہ روس میں سن 2005 میں خالص الکحل کی کھپت فی شراب نوش تقریباً 19 لٹر سالانہ تھی جو 2016 میں کم ہو کر پونے 12 لٹر سالانہ رہ گئی تھی۔