سلیکون ویلی کا آئیکون ایک چھوٹا سا ریستوران

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سلیکون ویلی دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کا مرکز سمجھی جاتی ہے۔ یہاں کئی بڑی بڑی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ایسی جگہیں بھی ہیں جو دیکھنے میں تو عام سی لگتی ہیں لیکن سیلیکون ویلی میں ان کی بہت اہمیت ہے۔

سلیکون ویلی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں چھوٹے چھوٹے خواب ناقابلِ یقین حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ ایک چھوٹا سا آئیڈیا اربوں ڈالر کا کاروبار بن جاتا ہے اور ایک عام سی دکھنے والی جگہ، ایک آئیکون بن جاتی ہے۔

ایسی ہی ایک جگہ ہے بکس ریستوران، جوہے تو چھوٹا سا ریستوران لیکن اس میں بڑی بڑی چیزیں ہوئی ہیں۔

اس ریستوران کو اتنا آئیکونک کیوں سمجھا جاتا ہے؟ یہی جاننے کے لیے میں نے سلیکون ویلی کے علاقے ویسٹ وڈ کا رخ کیا اور اس ریستوارن کے مالک جیمِس میکنِیون سے ملاقات کی۔

جیمِس کہتے ہے کہ بظاہر یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگ ملتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں، گپ شپ کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ ہمارے ارد گرد دنیا کے بڑے سرمایہ کار ادارے ہیں، اس لیے اس ریستوران میں کچھ ایسے کونے ہیں جہاں سلیکون ویلی کی عظیم داستانوں میں سے کئی کی شروعات ہوئیں۔۔ اور یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ جگہ نہ صرف یہاں آنے والے سیاحوں کے لیے بلکہ مقامی ٹیک کمپنیز کے لیے بھی ایک آئیکونک جگہ بن گئی ہے۔

پھر جیمِس نے ہمیں وہ میز دکھائی جہاں 90 کی دہائی میں اسٹیو جورویسٹن اور سبیر بھاٹیا نے بیٹھ کر ‘ہاٹ میل’ نامی مفت ای میل سسٹم بنانے کے آئیڈیا پر تبادلۂ خیال کیا تھا جسے بعد میں مائیکرو سافٹ نے اس وقت 400 ملین ڈالر میں خرید لیا تھا۔

سبیر بھاٹیا اور سٹیو جورویسٹن بکس ریستوران میں

ایک ٹیبل پر مارٹن ایبر ہارڈ اور مارک ٹریپننگ نے ‘ٹیسلا’ کی بنیاد رکھی تھی۔ ‘ٹیسلا’ کمپنی کے آغاز کے وقت ایلنن مسک اس کا حصہ نہیں تھے جو اب کمپنی کے کرتا دھرتا ہیں۔

ایک کونے میں میز پر ‘نیٹ اسکیپ’ شروع کرنے کی بنیادی بات چیت ہوئی تھی جس کے آنے کے بعد انٹرنیٹ نے دنیا بھر میں انقلاب برپا کردیا تھا اور معلومات تک رسائی نہایت آسان بنا دی تھی۔

ایک اور کونے میں ایک چھوٹی سی میز پر ‘پے پال’ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ جیمِس نے اس بارے میں ایک واقعہ بھی سنایا کہ اس وقت ‘پے پال’ کے لیے کام کرنے والا ‘کوڈر’ اس میز پر ہی کام کرتے کرتے سو گیا تھا اور جسے چھے گھنٹے تک سونے دیا گیا تھا تاکہ وہ اپنی نیند پوری کرلے۔

اور پھر یہیں ایک میز وہ بھی ہے جہاں بل گیٹس نے بیٹھ کر اپنے کھانے کے بل پر بحث کی تھی۔۔ وہ اس بحث کے بعد اپنا بل کم کرانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ یعنی دنیا کے امیر ترین شخص نے بھی اپنا کھانے کا بل کم کرانے کے لیے تگ و دو کی۔

بل گیٹس

جیمِس میکنِیون کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ کہانیاں انھیں یاد تھیں اور کچھ ان لوگوں نے برسوں بعد انھیں آکر بتائیں جو ان ملاقاتوں میں موجود تھے۔ ان کی ان یادوں کے ثبوت اس ریستوران میں جابجا تصویروں کی شکل میں بکھرے ہوئے ہیں۔

اسی طرح کی ایک تصویر ارب پتی وارن بفیٹ کی بھی ہے جس میں جیمِس ریستوران میں کھانے کے بعد مسٹر بفیٹ سے ان کے بٹوے کے بارے میں سوال کر رہے ہیں جو ظاہر ہے کہ کافی بھاری تھا کیوں کہ اس وقت وہ دنیا کے دوسرے امیرترین انسان تھے۔

وارن بفیٹ نے پھر وہ بٹوا جیمِس کو تحفے میں دے دیا تھا اور جیمس نے اسے یہاں اپنے اس ریستوران میں فریم کرکے لگادیا۔

بین الاقوامی سیاحوں اور ٹیک انڈسٹری کے علاوہ دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی مشہور شخصیات اور عالمی میڈیا کے لیے بھی یہ ریستوران سلیکون ویلی کے سفر کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیمِس میکنِیون دنیا بھر سے آنے والے میڈیا اور صحافتی اداروں کی گنتی ایک دیوار پر رکھتے ہیں جہاں انھوں نے وائس آف امریکہ کے نام کا نشان بھی لگایا اور پھر ہمیں اپنے ریستوران کی مشہور کافی بھی پلائی۔

سلیکون ویلی کی دلچسب تاریخ کے کچھ دلچسب حصوں کی کہانیوں سے مزین اس ریستوران میں آکر واقعی یہ محسوس ہوا جیسے گزشتہ تین دہائیوں میں برق رفتاری سے بدلتی اس دنیا کی تصویر ایک فلم ریل کی طرح آپ کی آنکھوں کے سامنے سے گزر گئی ہو۔