سموگ کے باعث نئی دہلی میں پرائیویٹ ٹرانسپورٹ بند کرنے کا امکان

بھارت میں ماحولیات کے ایک سینیر عہدے دار نے کہا ہے کہ دارالحکومت نئی دہلی کے ہوا میں آلودگی کی سطح حالیہ دنوں میں خطرناک حدوں کو عبور کر چکی ہے اور اگر اس سطح میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو شہر میں پرائیویٹ گاڑیاں چلانے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

مضر صحت اور زہریلے اجزا سے اٹے گردو غبار نے نئی دہلی سمیت شمالی بھارت کے ایک وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کئی برسوں سے ہر سال سردیوں کے آغاز پر جب کسان اپنی فصلوں کے بچے کچے اور ناقابل استعمال ٹکڑوں کو جلاتے ہیں تو علاقے بھر میں آلودگی کی سطح بڑھ جاتی ہے۔

ماحولیاتی آلودگی پر کنٹرول کے ادارے ای پی سی اے کے چیئر مین بھورے لال کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ توقع کرنی چاہیے کہ دہلی میں فضائی آلودگی کی صورت حال مزید خراب نہیں ہو گی، لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ ایک ایمرجینسی ہو گی اور ہمیں پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کے استعمال کو روکنا پڑے گا۔ ہمارے ہاں اس پر ایک کمیٹی ہے جو مجھے مشورہ دے گی۔

ای پی سی اے نے، جس کی تعیناتی بھارتی سپریم کورٹ نے کی تھی، پہلے ہی یکم نومبر سے 10 نومبر تک تعمیرات روکنے، ڈیزل سے چلنے والے جینریٹروں، موٹر رکشوں اور کوڑا کرکٹ جلانے پر پابندی کی تجویز دے چکی ہے۔ نومبر کے ان ایام میں فضائی آلودگی کی سطح میں اضافوں کی توقع ہو تی ہے۔

سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ کے ہوا کے انڈکس کے مطابق نئی دہلی میں منگل کے روز آلودگی کی سطح 469 کے ہندسے کو چھو رہی تھی جب کہ ایک ہفتہ پہلے یہ سطح 299 تھی۔

فضائی آلودگی کی ایک بڑی وجہ فصلوں کے بچے کچے ناکارہ ٹکڑوں کو نذر آتش کرنا، گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں اور ہوا کی رفتار میں کمی ہے۔ 7 نومبر کو یہ صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے جب ہندو اپنے تہوار دیوالی پر آتش بازی کریں گے۔

ایک ایسے وقت میں جب کہ علاقے پر گرد وغبار اور دھوئیں کی ایک چادر تن گئی ہے، نئی دہلی کے صوبائی راہنما اور مرکزی حکومت کے وزیر ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ ارونڈ کجروال نے کہا ہے کہ ہر سال مرکزی حکومت کی نااہلی اور ہمسایہ ریاستوں پنجاب اور ہریانہ کی وجہ سے دہلی کو اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اپنے دفاع میں مرکزی حکومت کے ماحولیات کے وزیر ہریش وردھن نے کہا ہے کہ ان کی وزارت اور پنجاب اور ہریانہ کی ریاستوں نے فصلوں کے بچے کچے ٹکڑوں کو جلانے سے روکنے کی کوششیں کی ہیں اور دہلی کی حکومت کو چاہیے کہ وہ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے۔