لاکھوں صارفین کے ڈیٹا کی چوری پر فیس بک کو بھاری جرمانے کا سامنا

فیس بک کو اپنے صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ میں ناکامی کی وجہ سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی کے اٹارنی جنرل نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکی دارالحکومت نے فیس بک کمپنی کے خلاف اپنے صارفین کو مبینہ طور پر ڈیٹا کے تحفظ کے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

فیس بک کو صارفین کے تحفظ سے متعلق قانون کی ہر خلاف ورزی پر 5000 ڈالر جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اگر عدالت تمام متاثرہ صارفین کو ادائیگی کا حکم دیتی ہے تو یہ رقم ایک ارب 70 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ ڈیٹا کوئز کے ایک سافٹ ویر کے ذریعے چوری کیا گیا۔ یہ سافٹ ویر واشنگٹن ڈی سی کے 3 لاکھ 40 ہزار صارفین کے پاس تھا، لیکن اس سے صرف 852 مقامی صارف متاثر ہوئے۔

ادھر یورپی حکام نے بھی حال ہی میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اس بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں کہ کمپنی اپنے صارفین کی پرائیویسی کا تحفظ کرنے میں کیوں ناکام ہوئی۔

میڈیا چینل سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ آئرش ڈیٹا پروٹیکشن کمشن نے تصدیق کی ہے کہ اس نے ڈیٹا کی چوری سے متعلق کئی شکائتیں ملنے کے بعد یورپی قوانین کے تحت فیس بک کمپنی کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

تفتیش سے متعلق خبریں فیس بک کی جانب سے اس اعلان کے بعد آئی ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ اس کے لگ بھگ 68 لاکھ صارفین کی تصویریں تک ہیکرز نے رسائی حاصل کر لی تھی۔

ڈیٹا چوری کا انکشاف اس وقت ہوا جب ستمبر میں کمپنی نے یہ اعلان کیا کہ یہ فیس بک کی تاریخ میں سیکیورٹی سسٹم کو توڑ کر اس کے اندر گھسنے کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

فیس بک کے خلاف تحقیقات آئرش ڈیٹا ریگولیٹر کو جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (جی ڈی پی آر) کے نئے اختیارات ملنے کے بعد شروع ہوئیں ہیں جن کا اطلاق یورپی یونین نے مئی میں کیا تھا۔

آئرلینڈ کی جانب سے تحقیقات شروع کیے جانے کی وجہ یہ ہے کہ فیس بک کا یورپی ہیڈکوارٹرز ڈبلن میں ہے، چنانچہ جی ڈی پی آر کے تحت ڈیٹا چوری کا علم ہونے کے بعد اس کی اطلاع 72 گھنٹوں کے اندر آئرش ڈیٹا ریگولیڑ کو دینا ضروری تھا۔

جو کمپنیاں جی ڈی پی آر کے ضابطوں پر عمل کرنے میں ناکام رہتی ہیں انہیں زیادہ سے زیادہ دو کروڑ 30 لاکھ ڈالر یا دنیا بھر میں کمپنی کے سالانہ محصولات کی آمدنی کے 4 فی صد تک، ان دونوں میں جو بھی زیادہ ہو، جرمانہ ہو سکتا ہے۔

جہاں تک فیس بک کا معاملہ ہے تو اسے 2017 میں لگ بھگ 40 ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی تھی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر 2018 میں بھی اس کی آمدنی یہی رہتی ہے تو اسے ایک ارب 60 کروڑ ڈالر تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ستمبر میں ہیکرز کو لاکھوں صارفین کی تصویروں تک 12 دن کے لیے رسائی حاصل رہی۔ فیس بک کو سیکیورٹی سسٹم میں شگاف کا علم ستمبر میں ہی ہو گیا تھا لیکن اس نے دو مہینوں کے بعد 22 نومبر کو یورپی ریگولیٹر کو اس کی اطلاع دی۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ اطلاع کرنے میں تاخیر کا سبب یہ تھا کہ کمپنی یہ تعین کر رہی تھی کہ آیا یہ ڈیٹا چوری کا یہ واقعہ اس دائرے میں آتاہے جس کی اطلاع دینا ضروری ہے۔

کمیونیکشن سے متعلق ریگولیٹر اتھارٹی کے سربراہ گراہم ڈئیل نے کہا ہے کہ آئرش ڈیٹا کمشن نے فیس بک کی جانب سے سیکیورٹی سسٹم میں شگاف کی کئی نوٹیفیکشن ملنے کے بعد تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ ہم آئرش ڈیٹا پروٹیکشن کمشن کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور کسی بھی سوال کا بخوشی جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔